مضامین بشیر (جلد 3) — Page 183
مضامین بشیر جلد سوم 183 انہیں حسب استطاعت سردی کے کپڑے مہیا کئے جائیں۔اگر طاقت ہو تو نئے کپڑے بنوا کر دیئے جائیں ور نہ غریبوں کے لئے مستعمل کپڑے بھی ایک نعمت ہوتے ہیں۔جن غریب ہمسایوں کے پاس سردی کے موسم کے لحاظ سے لحاف وغیرہ نہ ہوں انہیں لحاف مہیا کئے جائیں۔اگر کسی غریب کا مکان شکستہ ہے اور ٹھنڈی ہوا کے رخنوں کو روکنے کے قابل نہیں تو اسے مناسب امداد دے کر مکان درست کرا دیا جائے۔اگر کوئی غریب بیمار ہے تو علاج کا انتظام کرا دیا جائے۔یا دوائی کے لئے کچھ نقد امداد کر دی جائے وغیرہ وغیرہ۔اور گو الْأَقْرَبُ فَالْأَقْرَبُ کا اصول بہر حال مسلم ہے۔مگر عمومی رنگ میں یہ امداد بلالحاظ فرقہ ومنذ ہب ہونی چاہئے جس رب العالمین خدا نے جانوروں تک کی خدمت کو بھاری ثواب قرار دیا ہے وہ یقیناً غربت اور تنگ حالی کے ماحول میں فرقہ اور مذہب کی حد بندی کو پسند نہیں فرماتا۔اور حقیقتا یہی وہ مؤثر طریق ہے جس سے ہم ملک وقوم میں اشتراکیت کے بھوت کا عملی مقابلہ کر سکتے ہیں اور اس میں غلطی خوردہ مخالفین میں نیک اثر پیدا کرنے کا بھی بہترین ذریعہ ہے۔اسی طرح چونکہ مرکز سلسلہ میں بھی ہمیشہ غرباء کا ایک معتد بہ طبقہ موجود رہتا ہے اور مرکز کا اثر ساری جماعت پر پڑتا ہے۔اس لئے اپنے صدقات کا کچھ حصہ مرکز میں آنا چاہئے۔تاریخ بتاتی ہے کہ جس طرح مرکز کی نیکی کا اثر تمام شاخوں پر پڑتا ہے اسی طرح اگر مرکز میں کوئی خرابی یا بے چینی ہو تو وہ بھی لاز ما تمام جماعت پر اثر ڈالتی ہے۔کیونکہ مرکز دل کے حکم میں ہے۔جس کے متعلق ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ إِذَا فَسَدَتْ فَسَدَ الْجَسَدُ كُلُّهُ وَإِذَا صَلَحَتْ صَلَحَ الْجَسَدُ كُلُّهُ أَلَا وَهِيَ الْقَلْبُ۔( صحیح بخاری کتاب الایمان باب فضل من استبراد بینه ) محرره 14 نومبر 1954 ء) روزنامه الفضل لاہور 18 نومبر 1954 ء) اسلام میں استخارہ کا مبارک نظام اور بظاہر متضاد خوابوں کا فلسفہ اسلام کی بے شمار رحمتوں میں سے ایک بہت بڑی رحمت استخارہ کا مبارک نظام ہے جس کے ذریعہ دین ودنیا کے ہر اہم کام میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم (فدا نفسی ) نے اپنی امت کے افراد کو ایک عجیب و غریب روحانی کڑی کے ذریعہ خدائے علیم و قدیر کی رحمت کے دامن کے ساتھ باندھ دیا ہے۔ہمارے آقا