مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 81 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 81

مضامین بشیر جلد سوم 81 اصول تربیت کے متعلق ایک مضمون لکھ کر احباب کی خدمت میں پیش کرنے کی کوشش کروں گا۔وبالله التَّوْفِيقِ وَهُوَ الْمُسْتَعَانُ۔فی الحال دعا کی درخواست کے ساتھ دوستوں سے رخصت چاہتا ہوں۔( محررہ 26 اپریل 1952ء) روز نامه الفضل لاہور 30 اپریل 1952ء) حضرت اماں جان کی نسل خدائی رحمت و قدرت کا غیر معمولی نشان تین چار روز ہوئے ایک دوست نے میرے سامنے حضرت اماں جان کی نسل کی فہرست پیش کر کے درخواست کی کہ اگر اس فہرست میں کوئی غلطی رہ گئی ہو۔یا کوئی فروگزاشت ہوگئی ہوتو وہ درست کر دی جائے۔میں نے اس فہرست کو دیکھ کر ضروری تصحیح کر دی۔اس فہرست کی میزان ایک سو گیارہ تھی۔یعنی حضرت اماں جان رضی اللہ عنھا کی نسل میں اس وقت جو افراد ( مرد عورت۔لڑکے۔لڑکیاں ) زندہ موجود ہیں ان کی میزان ایک سو گیارہ بنتی ہے اور فوت ہونے والے بچوں کی تعداد میں ہے جو اس کے علاوہ ہے۔یعنی کل میزان ایک سو اکتیس ہے یہ ایک نہایت درجہ غیر معمولی تعداد ہے۔جو کسی شخص کو اپنی زندگی میں اپنے بیٹوں اور بیٹیوں ،نواسوں اور نواسیوں کی اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھنی نصیب ہوئی ہے۔میں خدا تعالیٰ کے اس غیر معمولی انعام اور غیر معمولی فضل و رحمت کے متعلق غور کر رہا تھا کہ اچانک مجھے خیال آیا کہ اس کے مقابل پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بڑی زوجہ محترمہ کی نسل کے متعلق بھی دیکھا جائے کہ ان کی میزان کیا بنتی ہے۔سوحساب کرنے سے معلوم ہوا کہ ہماری بڑی والدہ کی نسل میں اس وقت زندہ افراد کی تعداد 19 گس پر مشتمل ہے۔حالانکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ ان کی شادی حضرت اماں جان کی شادی سے قریباً 35 سال پہلے ہوئی تھی۔گویا 35 سال زیادہ زمانہ پانے کے باوجود حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زوجہ اول کی نسل میں اس وقت صرف 19 افراد موجود ہیں۔اور اس کے مقابل پر 35 سال کم ( عمر ) پانے پر بھی حضرت اماں جان مرحومہ مغفورہ کی زندہ نسل اس وقت ایک سو گیارہ ہے۔یہ عظیم الشان بلکہ عدیم المثال فرق یقیناً اللہ تعالیٰ کے ان غیر معمولی وعدوں کی وجہ سے ہے جو حضرت اماں جان اور آپ کی نسل کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زبان مبارک پر جاری ہوئے۔چنانچہ جیسا کہ سب دوست جانتے ہیں حضرت