مضامین بشیر (جلد 3) — Page 78
مضامین بشیر جلد سوم 78 بے حد تشویشناک ہے بلکہ جیسا کہ میں او پر لکھ چکا ہوں اسے دراصل نازک کے لفظ سے تعبیر کرنا چاہئے۔مگر ہما را خدا اپنی تقدیر پر بھی غالب ہے۔اور یہ وہ عظیم الشان رحمت ہے جس کی طرف اسلام کے سوا کسی اور مذہب نے راہ نمائی نہیں کی۔حقیقتا غور کیا جائے تو یہ کتنی بابرکت تعلیم ہے کہ اولاً اسلام یہ سکھاتا ہے کہ کسی بیماری کو لا علاج نہ سمجھو۔کیونکہ صحیفہ فطرت میں موت کے سواہر بیماری کا علاج موجود ہے ثانیا اسلام ہی تعلیم دیتا ہے کہ اگر کوئی چیز تقدیر عام کے ماتحت مقدر بھی ہو چکی ہو تو بھی مایوس نہ ہو۔کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے امر پر بھی غالب ہے اور اپنی تقدیر عام کو اپنی تقدیر خاص سے بدل سکتا ہے۔اور ثالثاً اسلام یہ سکھاتا ہے کہ اگر کسی مصلحت سے خدا اپنی کوئی تقدیر نہ بدلے تو پھر بھی بچے مومنوں کو ہرگز ہراساں نہیں ہونا چاہئے۔کیونکہ مومنوں کے اجتماع کا آخری نقطہ خدا کی ذات ہے۔یہ تعلیم کتنی پاکیزہ اور امید کے جذبات سے کتنی معمور ہے کہ ہمارے آسمانی آقا نے ہمارے ہر دکھ کا علاج پہلے سے مہیا کر رکھا ہے۔لیکن ہمارا فرض ہے کہ ہم ہر حال میں اپنے خدا سے اس کی بہترین نعمت کے طالب ہوں۔وَقَالَ اللَّهُ تَعَالَى أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِي وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ الْعَظِيمِ (محررہ 6 اپریل 1952ء) (روز نامہ الفضل لاہور 8 اپریل 1952ء) صدقہ بھی دراصل ایک قسم کی دعا ہے حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب نے حضرت اماں جان کی علالت پر احباب جماعت کو صدقہ کی تحریک فرماتے ہوئے آخر پر صدقہ کی اہمیت یوں بیان فرمائی۔دوستوں کو یا درکھنا چاہئے کہ صدقہ بھی دراصل ایک قسم کی دعا ہے۔کیونکہ جس طرح منہ کی دعا قولی دعا ہے۔اسی طرح صدقہ عملی دعا ہے۔جس کے ذریعہ ایک مومن اپنی قولی دعا پر اپنے عمل کی مہر تصدیق ثبت کرتا ہے۔لیکن ایسے موقعوں پر کسی قسم کے تکلف یا ریا وغیرہ کا رنگ ہرگز نہیں ہونا چاہئے بلکہ اگر دل میں حقیقی خواہش پیدا ہو تو حسب توفیق خاموشی کے ساتھ صدقہ دے دیا جائے۔روزنامه الفضل لاہور 18 اپریل 1952ء)