مضامین بشیر (جلد 2) — Page 928
مضامین بشیر ۹۲۸ مطابق قربانیوں کے مسئلہ پر اصولی روشنی ڈالی ہے چنانچہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ :- إنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَةُ فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْةُ إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْاَبْتَرُة 66 ۷۳ د یعنی اے رسول ہم نے تجھے اسلام کے ذریعہ ایک وسیع اور کامل نعمت عطا کی ہے۔اب تجھے اس نعمت کو قائم رکھنے کے لئے چاہیے کہ خدا کی نماز ادا کر اور اس کے رستہ میں قربانی دے اس کے نتیجہ میں دین و دنیا کی نعمتیں تیری طرف سمٹی آئیں گی اور تیرا دشمن خیر و برکت سے محروم رہے گا۔“ یہ آیت بلکہ یہ سورۃ ( کیونکہ یہی ساری سورۃ ہے ) مکہ کے آخری زمانہ میں یا مدینہ کے شروع زمانہ میں نازل ہوئی تھی جب کہ ابھی تک کعبہ کفار کے قبضہ میں تھا اور حج بھی ابھی فرض نہیں ہوا تھا۔اس لئے اس جگہ تحر یعنی قربانی کے لفظ میں حج کی قربانی مراد نہیں سمجھی جائے گی۔بلکہ عام قربانی مراد سمجھی جائے گی۔جس کا سب سے بڑا اور سب سے زیادہ وسیع موقع عید الضحیٰ کے ایام ہیں اور میں بتا چکا ہوں کہ عید اضحی کا دوسرا نام یوم النحر بھی ہے۔اس کے علاوہ دوسری جگہ حج کے احکام کی ضمن میں قرآن شریف فرما تا ہے کہ: فَإِنْ أَحْصِرْتُمْ فَمَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْي یعنی اے مسلما نو اگر تم کسی مجبوری کے نتیجہ میں حج سے روک دیئے جاؤ تو تمہیں چاہئے کہ اس کے کفارہ کے طور پر خدا کے رستہ میں قربانی کرو۔“ ب بے شک یہ آیت نظام قربانیوں کے متعلق ہے جو حج کے ارادہ سے نکلیں اور پھر رستہ میں کسی مجبوری ( مثلاً بیماری یا دشمن کے روکنے یا زاد راہ کے ضائع جانے وغیرہ ) کی وجہ سے حج کی تکمیل سے روک دیئے جائیں مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی انتہا درجہ نکتہ رس طبیعت نے غالباً اس قرآنی آیت میں بھی یہ اشارہ سمجھا کہ ہر بچے مسلمان کے دل میں طبعا حج کی خواہش ہوتی ہے اور اگر وہ کسی مجبوری کی وجہ سے حج کے لئے نہیں جا سکتا تو ایک طرح اس کا معاملہ بھی گویا اس آیت کے نیچے آجاتا ہے جس میں یہ بتایا گیا ہے کہ اگر تم حج سے روک دیئے جاؤ تو قربانی دو۔پس اگر غور کیا جائے تو اس آیت سے بھی عید اضحی کی قربانی کا استدلال ہوتا ہے اور اغلب یہ ہے کہ جس طرح مثلاً ! نماز کے اجمالی حکم سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پانچ نمازوں کے وقتوں کی تعین فرما کر ان کا حکم دیا۔اسی طرح آپ نے حج سے روکے جانے کی صورت میں قربانی دینے کے حکم سے بھی یہ استدلال فرمایا ہو گا کہ ہر وہ مسلمان جو کسی مجبوری کی وجہ سے حج کو نہیں جا سکتا۔وہ گویا با معنی احصر تم کے مفہوم میں آ جاتا ہے اور اگر وہ قربانی کی طاقت رکھتا ہے ( کیونکہ طاقت کا ہونا بہر حال لازمی شرط ہے ) تو اسے چاہئیے کہ