مضامین بشیر (جلد 2) — Page 929
۹۲۹ مضامین بشیر قربانی دے کر نہ صرف حضرت اسمعیل کی قربانی کی یاد کو زندہ رکھے بلکہ حج کی محرومی کا کفارہ بھی دے۔بہر حال ایک طرف قرآن شریف میں فصل لربک وانحر (نماز کو قائم کر اور قربانی دے) کا حکم نازل ہونا اور دوسری طرف یہ قرآنی ارشاد کہ ” جب تم حج سے رو کے جاؤ تو قربانی دو اس بات کی طرف قطعی اشارہ کر رہے ہیں کہ قربانی کے حکم کی اصل بنیا د قرآن مجید پر ہی قائم ہے اور آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کے ارشادات بھی دراصل اسی قرآنی حکم کی فرع ہیں۔اب رہا یہ سوال کہ آیا عید اضحی کی قربانی فرض ہے یا کہ واجب یا سنت وغیرہ ؟ سو گو غیر اصطلاحی طور پر سنت کا لفظ اوپر کی حدیثوں میں آچکا ہے مگر بہر حال یہ فقہاء کی اصطلاحیں ہیں جن میں ہمیں جانے کی چنداں ضرورت نہیں۔ہمارے لئے صرف اس قدر جاننا کافی ہے کہ قربانی کے حکم کی بنیاد قرآن نے قائم فرمائی اور پھر اس بنیاد کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت اور اقوال وارشادات نے مستحکم کیا اور آنحضرت صلعم نے اسے بھاری ثواب کا موجب قرار دیا۔لیکن اگر کسی صاحب نے ائمہ فقہ کا مذہب اور ان کی اصطلاح میں بھی اس مسئلہ کا مطالعہ کرنا ہو تو اس کے لئے ذیل کے دو مختصر سے حوالے کافی ہونے چاہئیں۔مع المسلمون على ۷۵ یعنی عید اضحی کی قربانیوں کی مشروعیت پر تمام مسلمانوں کا اجتماع ہے۔جس کی تفصیل یہ ہے کہ عام آئمہ فقہ کے نزدیک تو عید اضحی کی قربانی ایک سنت موکدہ ہے لیکن حنفی اماموں کا یہ فتویٰ ہے کہ وہ محض سنت نہیں بلکہ واجب ہے اور بہر صورت اس کی شرط یہ ہے کہ انسان مالی لحاظ سے اس کی طاقت رکھتا ہو۔“ اور ترمذی کے حاشیہ پر لکھا ہے کہ:- اختلفواان الاضحية واجبة أو سنة فذهب ابوحنفية و صاحباه انها واجبة على كل حر مسلم مقیم موسر و عند الشافعى سنة موكدة وهو المشهور فى مذهب احمد و في مذهب مالک انه سنة واجبة على من استطاعها - دو یعنی اس بات میں اختلاف ہوا ہے کہ عید اضحی کی قربانی واجب ہے یا کہ سنت ؟ امام ابوحنیفہ اور ان کے دو ساتھیوں ( امام ابو یوسف اور امام محمد ) کا مذہب یہ ہے کہ یہ آزاد مقیم صاحب استطاعت مسلمان پر قربانی واجب ہے۔مگر امام شافعی کے نزدیک وہ واجب نہیں بلکہ سنت موکدہ ہے اور یہی مشہور مذہب امام احمد کا ہے اور