مضامین بشیر (جلد 2) — Page 910
مضامین بشیر ۹۱۰ صورت میں بھی ظاہر ہوتی ہے۔چنانچہ خدا کے نبیوں کا یہ ازلی نعرہ رہا ہے کہ: كتب الله لاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلى ۵۷ د یعنی خدا نے ہمیشہ سے یہ لکھ رکھا ہے کہ میں اور میرے رسول بہر حال غالب ہو کر رہیں گے۔“ یہ ایک تقدیر مبرم ہے جسے دنیا کی کوئی تدبیر ٹال نہیں سکتی۔ایک لاکھ اور بیس ہزار نبیوں کے زمانہ میں دنیا نے اس تقدیر کا مشاہدہ کیا اور اسے کبھی غلط نہیں پایا۔یہ تیر وہ ہے جو جب سے کہ دنیا بنی ہے آج تک خطا نہیں گیا اور نہ کبھی خطا جائے گا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کیا خوب فرماتے ہیں کہ :- قدرت سے اپنی ذات کا دیتا ہے حق ثبوت ہے اس بے نشاں کی چہرہ نمائی یہی تو جس بات کو کہے کہ کروں گا میں یہ ضرور ٹلتی نہیں وہ بات خدائی یہی تو ہے ۵۸ یہ صرف تقدیر مبرم کی شان ہے جس کے متعلق اس تحدی کے ساتھ اعلان کیا جا سکتا ہے اور جو صرف خاص خاص حالات میں ظاہر ہوتی ہے اور خدا نے اس تقدیر کا وجود اس لئے قائم کیا ہے کہ تا اپنی ہستی کے نشان ظاہر کرے اور جو لوگ تقدیر عام کی عینک سے خدا کو نہیں دیکھ سکتے وہ تقدیر خاص کی طاقتور دوربین کے ذریعہ ہی اس نور کا مشاہدہ کر لیں۔مگر یہ ایک خاص چیز ہے جو صرف خاص حالات میں ظاہر ہوتی ہے اور میں اس بات کے ہر گز آثار نہیں دیکھتا اور نہ ہی اس بات کا کوئی قرینہ موجود ہے کہ عزیز ظہور الدین مرحوم کی وفات تقدیر مبرم کے ماتحت واقع ہوئی ہے۔میں اپنے علم کے ماتحت یہی یقین رکھتا ہوں کہ یہ ایک تقدیر عام کا حادثہ تھا جو حالات پیش آمدہ کے ساتھ معلق تھا اور اگر ظہور الدین مرحوم کو صحیح اور بروقت علاج میسر آجاتا تو یقیناً اس کی تقدیر بدل جاتی اور اس کی جان بچ سکتی تھی والله اعلم بالصواب ولا علم لنا الا ما علمنا الله الوهاب اس مسئلہ کا ایک پہلو خدا کے علم ازلی سے تعلق رکھتا ہے اور اس میں بھی کئی لوگوں کو دھوکا لگ جاتا ہے کیونکہ وہ اپنی سادگی میں خیال کرتے ہیں کہ جب خدا کو جو عالم الغیب ہے ہر چیز کے انجام کا علم ہے اور خدا کا علم بہر حال یقینی اور قطعی ہے جو کسی صورت میں غلط نہیں ہوسکتا تو پھر اس سے لازم آتا ہے کہ ہر چیز کا انجام بہر حال اسی صورت میں مقدر ہے جس صورت میں کہ وہ عملاً ظاہر ہوتا ہے اور وہ کسی طرح بدل نہیں سکتا ور نہ نعوذ باللہ خدا کا علم غلط ثابت ہو گا جو ناممکن ہے وغیرہ وغیرہ لیکن یہ خیال محض سطحی تخیل کا نتیجہ ہے اور ہرگز درست نہیں۔حقیقت یہ ہے کہ خدا کا علم انجام پیدا نہیں کرتا بلکہ انجام کی