مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 783 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 783

۷۸۳ مضامین بشیر کرتا ہے۔(۲) کہا جاتا ہے کہ نعوذ باللہ ہم پاکستان کے غدار ہیں اور پاکستان میں رہتے ہوئے بھی ہندوستان کی وفاداری کا دم بھرتے ہیں۔اس کے جواب میں بھی ہم اس کے سوا کیا کہہ سکتے ہیں کہ لعنت الله على الكاذبين۔خدا کے فضل سے پاکستان کا ہر احمدی سچے دل سے پاکستان کا وفادار اور دلی خیر خواہ ہے اور اس کے لئے ہر ممکن قربانی کرنے کے لئے تیار ہے اور کوئی ایک لفظ یا ایک حرف بھی ایسا ثابت نہیں کیا جا سکتا جس میں پاکستان کے کسی احمدی نے پاکستان سے غداری یا ہندوستان کی وفاداری کا کوئی کلمہ کہا ہو۔باقی رہے ہندوستان کی حکومت میں بسنے والے احمدی سو جس طرح ہندوستان کے دوسرے مسلمان اپنی سیاسی حکومت کے شہری ہیں اسی طرح ہندوستان کے احمدیوں کا حال ہے اور قائد اعظم مرحوم کی بھی ہندوستان کے مسلمانوں کو یہی نصیحت تھی کہ تم جس حکومت میں رہو اس کے وفا دار ہو کر رہو۔چنانچہ قائد اعظم کے متعلق اخبار زمیندار لکھتا ہے کہ: ”ہمارے قائد اعظم بار بار اعلان کر چکے ہیں کہ ہندوستانی مسلمان کو اپنی حکومت کا 66 وفادار رہنا چاہیئے۔" بہر حال دنیا بھر کا یہی مسلمہ اصول ہے کہ جو قوم بہت سے ملکوں میں پھیلی ہوئی ہو وہ سیاسی لحاظ سے لازماً اپنے اپنے ملک کے وفادار شہری بن کر رہتی ہے۔یہ ایک ایسا پختہ اور تسلیم شدہ اور عالمگیر اصول ہے کہ کوئی دانا شخص اس سے انکار نہیں کر سکتا۔ہاں اگر کسی شخص میں ہمت ہے تو وہ یہ ثابت کرے کہ کسی پاکستان میں رہنے والے احمدی نے کبھی ہندوستان کی وفاداری کا دم بھرا ہو۔پس خدا کے لئے جھوٹے الزامات لگا کر ملک کی فضا کو مکدر نہ کرو۔(۳) کہا جاتا ہے کہ جماعت احمدیہ کے رکن چوہدری محمد ظفر اللہ خانصاحب نے باؤنڈری کمیشن کے سامنے خود اپنے ہاتھوں سے گورداسپور کا ضلع ہندوستان کے سپر د کر دیا۔اس کے جواب میں اعتراض کرنے والوں کی حالت پر انا لله وانا الیه راجعون کے سوا اور کیا کہا جاسکتا ہے۔دنیا جانتی ہے کہ چو ہدری صاحب موصوف کو اس کام پر خود قائد اعظم مرحوم نے مقرر کیا تھا اور پھر ہزاروں مسلمانوں اور ہندوؤں اور سکھوں کے سامنے چوہدری صاحب نے قائد اعظم کی ہدایت کے مطابق مسلمانوں کی نمائندگی کی اور اس قابلیت کے ساتھ مسلمانوں کی طرف سے بحث کی کہ اپنوں اور بیگانوں نے انہیں غیر معمولی خراج تحسین ادا کیا۔یہ کارروائی روزانہ قائد اعظم کے پاس پہنچتی تھی اور گورنمنٹ کے دفاتر میں اس کی نقل جاتی تھی اور روزانہ اخباروں میں چھپتی تھی اور سینکڑوں مسلمان اس