مضامین بشیر (جلد 2) — Page 784
مضامین بشیر ۷۸۴ کارروائی کو اپنے کانوں سے سنتے اور آنکھوں سے دیکھتے تھے۔چنانچہ بحث کے اختتام پر چوہدری صاحب کی بے انتہا تعریف کی گئی اور ان کی خدمات کو بے حد سراہا گیا۔مثلاً چوہدری صاحب کے کام کے متعلق اس زمانہ کے ایک مؤقر اسلامی اخبار نے لکھا کہ :- حد بندی کمیشن کا اجلاس ختم ہوا۔۔۔چار دن چوہدری سر محمد ظفر اللہ خانصاحب نے مسلمانوں کی طرف سے نہایت مدلل نہایت فاضلانه۔۔۔نهایت معقول بحث کی۔کامیابی بخشا خدا کے ہاتھ میں ہے مگر جس خوبی اور قابلیت کے ساتھ چوہدری سر محمد ظفر اللہ خانصاحب نے مسلمانوں کا کیس پیش کیا۔اس سے مسلمانوں کو اتنا اطمینان ضرور ہو گیا کہ ان کی طرف سے حق وانصاف کی بات نہایت مناسب اور احسن طریقہ سے ارباب اختیار تک پہنچادی گئی ہے۔ہمیں یقین ہے کہ پنجاب کے سارے مسلمان بلالحاظ عقیدہ ان کے اس کام کے معترف اور شکر گذار ہوں گے۔‘ ] یہ تو اس زمانہ میں پبلک کی رائے تھی لیکن اب اتنے سال گذر جانے کے بعد ان کے متعلق بغیر کسی ثبوت اور بغیر کسی دلیل کے بے وفائی اور غداری کا الزام لگایا جا رہا ہے۔تعصب کا ستیا ناس ہو۔بے انصافی کی بھی کوئی حد ہونی چاہیئے !! پھر چوہدری صاحب نے نہ صرف عام پاکستانی کیس کو نہایت قابلیت کے ساتھ پیش کیا بلکہ کشمیر کے آنے والے خطرات کے پیش نظر ) گورداسپور کے متعلق خاص طور پر زور دیا کہ وہ پاکستان میں شامل ہونا چاہیئے اور اعداد و شمار اور دلائل سے ثابت کیا کہ وہ ایک مسلم اکثریت کا ضلع ہے اور دوسرے مسلم علاقوں کے ساتھ ملتا بھی ہے۔اس لئے کوئی وجہ نہیں کہ اسے پاکستان سے کاٹ کر ہندوستان میں ڈالا جائے۔مگر افسوس صد افسوس که با وجود اس مخلصانہ اور وفا دارانہ خدمت کے اب چوہدری صاحب پر یہ الزام لگایا جا رہا ہے کہ انہوں نے گورداسپور کا ضلع اپنے ہاتھوں سے ہندوستان کے سپر د کر دیا۔کیا ایک وفا دار قومی کارکن کی بے لوث خدمت کا یہی بدلہ ہے کہ ضرورت کے وقت تو اس سے خدمت لی جائے اور وقت گذر جانے کے بعد اسے غدار کہہ کر لوگوں میں مطعون کیا جائے !! پھر کیا چوہدری صاحب پر اعتراض کرنے والے لوگ اتنی موٹی سی بات بھی نہیں سمجھ سکتے کہ اگر جماعت احمدیہ نے خود اپنے ہاتھوں سے گورداسپور کا ضلع ہندوستان کو دیا تھا اور وہ ہندوستان کی حکومت کو ترجیح دیتی تھی تو پھر کیا وجہ ہے کہ قادیان میں ہندوستانی حکومت قائم ہو جانے پر وہ خود