مضامین بشیر (جلد 2) — Page 761
مضامین بشیر خدا کی ہار مان لی۔اور اس کے مقابل پر نماز پڑھتے رہنے کے یہ معنے ہونگے کہ تم نے شیطان کے گلے ہے ، چوٹیں کھائیں، دھکے برداشت کئے مگر جس خدائی جھنڈے کو اپنے ہاتھ میں اٹھایا تھا اسے نیچا نہیں ہونے دیا۔اب خود سوچ لو کہ شیطان سے گھبرا کر نماز چھوڑ دینا بہتر ہے یا کہ شیطان کا مقابلہ کرتے ہوئے آخر وقت تک نماز بجالا نا زیادہ شاندار ہے؟ باقی رہا یہ سوال کہ نماز میں ذوق کس طرح پیدا کیا جا سکتا ہے۔سواؤل تو میں بتا چکا ہوں کہ اگر ذوق نہ بھی پیدا ہوتو کوئی حرج نہیں۔نماز بہر حال پاک فریضہ ہے جو ہر صورت میں ادا ہونا چاہئے۔لیکن ہماری شریعت نے ہر بیماری کا علاج بتایا ہے۔اس لئے جو شخص نماز میں ذوق وشوق کی کیفیت سے محروم ہے اسے بھی شریعت مایوس نہیں کرتی۔چنانچہ اس تعلق میں سب سے پہلی بات قرآن شریف یہ فرماتا ہے کہ: فَوَيْلٌ لِلْمُصَلِّينَ ) الَّذِينَ هُمْ عَنْ صَلَاتِهِمْ سَاهُونَ ) الَّذِينَ هُمْ يُرَاءُونَ ) د یعنی افسوس ہے ان لوگوں پر جو بظا ہر نماز تو پڑھتے ہیں مگر اپنی نماز کی حقیقت اور روح کی طرف سے غافل رہتے ہیں۔ان کی نما ز صرف لوگوں کو نظر آنے والا ایک بت ہے جس کے اندر کوئی زندگی کی روح نہیں۔“ اس آیت میں خدا تعالے نے یہ فلسفہ بیان فرمایا ہے کہ دوسری جاندار چیزوں کی طرح نماز کی بھی ایک روح ہے جو اس کے ظاہری جسم کے علاوہ اس کی اندرونی حقیقت کی حامل ہوتی ہے اور ہر سچے مومن کی کوشش ہونی چاہئے کہ نماز کے جسم کے ساتھ ساتھ اس کی روح کی حفاظت کا بھی خیال رکھے۔پس نماز میں ذوق وشوق کی کیفیت پیدا کرنے کے لئے پہلی بات یہ ضروری ہے کہ نماز پڑھنے والا صرف نماز کے ظاہری ارکان یعنی قیام اور رکوع اور سجدہ اور قعدہ کو ہی نماز کا مقصد و منتہی نہ سمجھے اور محض مقررہ لفظی دعاؤں کا دہرانا ہی نماز کی غرض و غایت نہ قرار دے لے۔بلکہ اس بات کو بھی مدنظر رکھے کہ نماز کے ظاہری جسم کے لئے ایک اندرونی روح بھی مقرر کی گئی ہے اور مجھے پوری پوری توجہ اور جستجو کے ساتھ اس روح تک پہنچنے کی کوشش کرنی چاہئے۔جب نماز پڑھنے والا اس نیت اور اس زاویہ نظر کے ساتھ نماز میں داخل ہوگا تو قدرت کے نفسیاتی اصول کے ماتحت طبعا اس کے اندر ایک خاص قسم کی جستجو اور طلب اور تڑپ کی کیفیت پیدا ہو جائے گی اور بالآخر یہی تڑپ اسے جسم کی حدود سے آگے لے جا کر روح کی حدود میں داخل کر دیگی۔اصل مرض توجہ کی کمی ہوتی ہے جو عموماً نماز کی اہمیت اور نماز کی حقیقت کو نہ سمجھنے کی وجہ سے پیدا ہوا کرتی ہے۔لیکن جب انسان نما ز کو ایک برکت اور رحمت کا شعار اور روحانی زندگی کا ذریعہ سمجھ کر توجہ جمانا شروع کر دے تو اسی چیز میں جو پہلے ایک خشک اور بے جان جسم کا رنگ رکھتی تھی زندگی کی حرکت پیدا ہونے لگے گی۔