مضامین بشیر (جلد 2) — Page 752
مضامین بشیر ۷۵۲ ان کی طرف سے یاد دہانی کا خط بھی پہونچا۔جس میں لکھا تھا کہ مجھے آپ کے جواب کا انتظار ہے۔سو میں اس مختصر نوٹ کے ذریعہ ان صاحب کے اعتراض کا جواب الفضل میں شائع کرا رہا ہوں تا کہ اگر میرے اس جواب سے ان صاحب کی تسلی نہ ہو تو کم از کم دوسرے دوست ہی میرے اس نوٹ سے اصولی رنگ میں فائدہ اٹھا سکیں۔وما توفيقى الا بالله العظيم سب سے پہلی بات جو میں اس تعلق میں کہنا چاہتا ہوں یہ ہے کہ کسی مامور من اللہ پر ایمان لانے والا شخص اپنے اس ایمان سے خدا پر یا جماعت پر کوئی احسان نہیں کرتا۔بلکہ دراصل یہ خدا کا احسان ہوتا ہے کہ اسے اس ایمان کی توفیق ملتی ہے۔پس اس معاملہ میں حقیقتاً مشورہ وغیرہ کا کوئی سوال پیدا نہیں ہو سکتا۔اگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت اور اس کی ذیل میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خلافت پر ایمان لانے کی توفیق ملنا خدا کی طرف سے ایک انعام ہے تو پھر کسی مومن کہلانے والے کی طرف سے یہ سوال کہ میں اس خدائی انعام کو اپنے ہاتھ میں رکھوں یا کہ اس سے دست بردار ہو جاؤں ایک ایسا سوال ہے جس کا فلسفہ کم از کم میری سمجھ سے بالا ہے۔اور بہر حال اس میں مشورہ کا کوئی سوال نہیں کیونکہ ہر بچے احمدی کا اس موقعہ پر صرف ایک ہی جواب ہوسکتا ہے۔اور یہ جواب وہی ہے جو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ایک موقعہ پر حضرت عمر کو دیا تھا کہ ”جس خدائی سواری کے ساتھ ساتھ چلنے کے لئے تم نے اس کی رکاب پر ہاتھ رکھا ہے۔اسے کسی ادھر ادھر کے خیال سے ڈھیلا نہ ہونے دو۔ورنہ تمہارا اس منزل مقصود تک پہونچنا ایک خیال موہوم ہو گا جو خدائے علیم و قدیر نے اس سواری کے لئے مقدر کر رکھی ہے۔یہ جواب حضرت عمرؓ کو اس وقت دیا گیا تھا جبکہ وہ ایک ایمانی غیرت کے جوش میں صلح حدیبیہ کی بظاہر تحقیر آمیز شرائط پر پیچ و تاب کھا رہے تھے تو پھر کس قدر افسوس ہے اس شخص پر جو کسی دینی بات پر نہیں بلکہ ایک ذاتی اور وقتی رنجش کو آڑ بنا کر منزل مقصود سے پہلے ہی تھک کر بیٹھ جانے کا بہانہ ڈھونڈ رہا ہے۔میں نے یہ الفاظ لعن طعن کے رنگ میں نہیں لکھے۔بلکہ ولی درد کے ساتھ لکھے ہیں اور کاش وہ اسی درد سے قبول کئے جائیں۔دوسرا جواب اس اعتراض کا یہ ہے کہ جہاں سوال کرنے والے دوست نے اپنی تکلیف اور اپنی یشانی کا خیال کیا۔وہاں انہوں نے حضرت امیر المؤمنین ایدہ اللہ تعالے بنصرہ العزیز پر بھی یہ حسن ظنی کیوں نہیں کی کہ وہ اس وقت کسی اہم دینی کام میں مصروف ہو نگے۔اور کم فرصتی کی وجہ سے یا علالت طبع کی وجہ سے انہوں نے اس وقت مجبوراً صرف چند آدمیوں کا انتخاب کر کے انہیں ملاقات کے لئے بلا لیا ہو گا۔کیا مصروفیت اور پریشانی اور بیماری کا ورثہ صرف ان صاحب کے لئے ہی مقدر ہے۔اور دوسرا کوئی شخص ان باتوں میں مبتلا نہیں ہو سکتا؟ تو جب دوسرے لوگ بھی جو ہمارے اس