مضامین بشیر (جلد 2) — Page 60
مضامین بشیر زراعت کرو۔صنعت و حرفت میں پڑو۔ملازمتیں کرو۔آرٹس میں چمکو، سائنس میں کمال پیدا کرو۔فنون سپہ گری سیکھو۔دنیا کماؤ۔دین کی خدمت میں وقت گزار و۔جائیدادیں بناؤ۔جائز تفریحوں میں حصہ لو۔تمہارا دین تمہیں کسی ایسے کام سے جو تم جائز رنگ میں کرنا چا ہو۔نہیں روکتا۔کیونکہ انفرادیت بھی انسانی ترقی کے لئے ایسی ہی ضروری ہے جیسا کہ اشتراکیت۔مگر وہ تم سے یہ ضرور مطالبہ کرتا ہے اور یہ مطالبہ گویا اسلامی اشتراکیت کی جان ہے کہ تم جو بھی ہوا اور جیسے بھی ہو اور جہاں بھی ہو تمہارے اندر یہ جذ بہ ہمیشہ موجزن رہنا چاہیئے کہ اگر کبھی تمہارے کسی چھوٹے سے چھوٹے عضو یعنی بظاہر حقیر سے حقیر فرد کو بھی کوئی دکھ پہنچے تو یہ دکھ صرف اس عضو اور اس فرد کا ہی دکھ نہ رہے۔بلکہ اس دکھ کی وجہ سے وسیع اسلامی اخوت کا سارا وجو دسر سے لے کر پاؤں تک سهر حمی کے ساتھ تینا اور تڑپنا شروع ہو جائے۔آج اس اخوت کے مقام پر قائم ہو جاؤ۔اور پھر دنیا کی کوئی طاقت تمہارا مقابلہ نہیں کر سکتی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس اخوت اسلامی کا اس قدر اکرام مد نظر تھا کہ جب عرب کے شمال میں غزوہ موتہ کے موقع پر عیسائیوں کی ایک جمیعت نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آزاد کردہ غلام زید بن حارثہ کو شہید کیا تو آپ نے ان کے انتقام اور اسلامی رعب کے قیام کے لئے صحابہ کی ایک فوج اس علاقہ کی طرف روانہ فرمائی اور اس فوج کی سرداری حضرت زید کے صاحبزادے اسامہ کے سپر د کی۔جو اس وقت صرف انیس سالہ نوجوان تھے اور حضرت ابو بکر اور حضرت عمرؓ جیسے معمر اور جلیل القدر صحابہ کو ان کے ماتحت رکھا۔تا دنیا پر یہ ظاہر ہو کہ اگر اسلام کے ایک غلام کو بھی کفار کی طرف سے گزند پہنچتا ہے تو اس کے انتقام کے لئے چوٹی کے مسلمان اس غلام کے لڑکے کی رکاب تھامے ہوئے آگے آتے ہیں۔دنیا کی کونسی طاقت ہے جو اس عظیم الشان روحانی قلعہ کو سر کر سکتی ہے؟ کوئی کہہ سکتا ہے کہ یہ تو محض ایک فلسفہ ہے جو اسلام نے پیش کیا ہے۔یعنی اس نے ایک جذ بہ کو ابھار کر اسے آزاد چھوڑ دیا ہے اور ایک طاقت کو پیدا کر کے اسے آزاد چھوڑ دینا بسا اوقات فائدہ کی نسبت ہلاکت کا زیادہ موجب ہو جاتا ہے۔کیونکہ یہ ایسا ہی ہے جیسا کہ ایک طاقتور موٹر کو تیزی کے ساتھ حرکت میں لا کر کسی شاہراہ پر بغیر بریکوں اور بغیر ڈرائیور کے چھوڑ دیا جائے۔مگر یہ اعتراض بالکل بودا اور جہالت کا اعتراض ہے کیونکہ اس حدیث میں اخوت اسلامی کے مواقع نہیں بتائے گئے۔بلکہ صرف اخوتِ اسلامی کا مقام بیان کیا گیا ہے کہ وہ کس اعلیٰ شان کی ہونی چاہیئے۔باقی رہا یہ سوال کہ یہ اخوت کس رنگ میں اور کس موقع پر ظاہر ہو۔سو اس کے متعلق قرآن وحدیث بھرے پڑے ہیں۔مگر اس جگہ مثال کے طور پر صرف ایک آیت قرآنی اور ایک حدیث نبوی پر اکتفا کرتا