مضامین بشیر (جلد 2) — Page 59
۵۹ مضامین بشیر وَفِي أَنْفُسِكُمْ أَفَلَا تُبْصِرُونَ دو یعنی نادانو ہم نے ہر ضروری نشان تمہارے اپنے نفسوں میں جمع کر رکھا ہے۔مگر تم دیکھو بھی۔“ انسانی جسم کے ہزاروں بلکہ لاکھوں اعضا یعنی حصے ہیں اور ہر حصہ اپنی ذات میں گویا ایک عالم کا حکم رکھتا ہے اور اپنے اپنے مفوضہ کام کی انجام دہی میں اس طرح لگا ہوا ہے کہ گویا باقی حصوں کی طرف سے بالکل ہی غافل اور بے خبر ہے۔مگر جو نہی کہ ان ہزاروں حصوں میں سے کسی ایک حصہ کو کوئی دکھ پہنچتا ہے باقی حصے فوراً بیدار ہو کر اس کی ہمدردی میں آہ و پکار کرنے لگ جاتے ہیں۔گویا یہ ایک یک جدی کنبہ تھا۔جس کے ایک فرد کی موت نے سارے خاندان میں صف ماتم بچھا دی ہے۔دکھتی آنکھ ہے مگر دل و دماغ تڑپنے لگ جاتے ہیں۔درد پہلی میں ہوتا ہے مگر سارے جسم کا رواں رواں بے چین ہو جاتا ہے۔کانٹا ایڑی میں چبھتا ہے مگر زبان ہائے ہائے کرتی اور ہاتھ کرب وضطراب میں ادھرادھر گرتے ہیں۔اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ( فداہ نفسی ) نے الفاظ بھی کیسے حقیقت سے معمور چنے ہیں فرماتے ہیں : تَدَاعَى لَهُ سَائِرُ جَسَدِهِ بِالسَّهْرِ وَالْحُمَّى د یعنی ادھر جسم کا ایک عضو بیمار ہو کر گویا اپنی مدد کے لئے دوسرے اعضا کو پکارتا ہے اور ادھر باقی سارے عضو ماں جائے بھائیوں کی طرح لبیک لبیک کہتے ہوئے اس کی ہمدردی میں اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔اور جب تک اس بیمار عضو کو چین نصیب نہیں ہوتا وہ اس کے پہلو میں بیٹھے رہ کر خود بھی انگاروں پر لوٹتے ہیں۔اور سوزشِ اضطراب میں اسی طرح جلتے ہیں۔جس طرح یہ بیمار عضو جلتا ہے۔ذرا سوچو کہ ایسا کیوں ہوتا ہے کہ پیپ تو صرف انگلی کے کور میں پڑتی ہے مگر جسم سارا بے چین ہونے لگتا ہے اور بخار سے رواں رواں پیتا ہے۔یہ اس لیئے کہ خالق ہستی نے انسانی جسم کو ایسی عجیب وغریب بناوٹ عطا کی ہے کہ اگر ایک طرف ہر عضو گویا ایک گو نہ مستقل حیثیت رکھتا ہے تو دوسری طرف وہ باقی تمام اعضاء کے ساتھ ایک مجموعی لڑی میں پرویا ہوا بھی ہے۔اور ایک کے سکھ کے ساتھ دوسرے کا سکھ اور ایک کے دکھ کے ساتھ دوسرے کا دکھ لازم ملزوم کر دیا گیا ہے اور اسلامی اخوت کا یہی وہ دلکش نظارہ ہے جو ہمارا پیارا آقا اپنے خادموں کی زندگی میں دیکھنا چاہتا ہے۔تم بے شک اپنی انفرادی زندگی کو جس جائز طریق پر چاہو گذار و تجارت کرو۔