مضامین بشیر (جلد 2) — Page 695
۶۹۵ مضامین بشیر اخویم مرز اسلطان احمد صاحب مرحوم شیخ محمد احمد صاحب کی ایک دلچسپ روایت جیسا کہ سب دوستوں کو معلوم ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دوشادیاں ہوئی تھیں۔ایک شادی بالکل اوائل عمر میں ہی حضور کے والدین نے اپنے عزیزوں میں کرا دی تھی۔جس سے خان بہا در مرز اسلطان احمد صاحب مرحوم اور مرزا افضل احمد صاحب مرحوم پیدا ہوئے۔اور دوسری شادی ہماری والدہ صاحبہ حضرت ام المومنین اطال اللہ ظلہا کے ساتھ دہلی میں ہوئی۔اور یہ موخر الذکر شادی وہ شادی ہے جس کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو یہ الہام ہوا تھا کہ : الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الصِّهْرَ وَالْنَسَبِ۔AC یعنی وہ خدا تمام تعریفوں کا حق دار خدا ہے جس نے تمہارا سسرال ایک شریف اور اعلیٰ خاندان میں بنایا۔اور اسی نے تمہارے جدی نسب کو بھی شریف اور اعلیٰ خاندان میں قائم کیا۔چونکہ اخویم مرزا سلطان احمد صاحب نے شروع شروع میں بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی بھر بعض خاندانی اثرات کے ماتحت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعوی کو قبول نہیں کیا تھا۔اسی لئے جیسا کہ دوست جانتے ہیں۔حضور ان پر خوش نہیں تھے اور عملاً قطع تعلق کی صورت تھی۔حتی کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات ہوگئی اور اس کے بعد حضرت خلیفہ اقول رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں بھی مرز اصاحب موصوف کو بیعت کی توفیق نہیں ملی۔پھر حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا زمانہ آیا اور اس کے اوائل میں بھی مرزا صاحب موصوف بدستور علیحدہ رہے۔لیکن جب وہ پنشن لے کر قادیان آگئے اور وہ جن کی وجہ سے مرزا صاحب زیادہ تر بیعت سے رکے ہوئے تھے یعنی ہماری تائی صاحبہ مرحومہ جنہوں نے مرزا صاحب کو بیٹا بنایا ہوا تھا ) انہوں نے بھی بیعت کر لی تو اس وقت اللہ تعالیٰ نے مرزا صاحب مرحوم کو بھی شرح صدر عطا کیا۔اور وہ اپنے چھوٹے بھائی یعنی حضرت خلیفۃ امسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کی بیعت سے مشرف ہو گئے۔اور اپنی آخری عمر میں پلٹا کھا کر بہشتی مقبرہ میں جگہ پائی۔وذالک فضل الله يوتيه من يشاء والله ذو الفضل العظيم -