مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 674 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 674

مضامین بشیر۔۶۷۴ حضرت صاحب اس وقت بھی رَبِّ اَدْخِلْنِي مُدْخَلَ صِدْقٍ والی دعا دہرا رہے تھے اور دوسروں کو بھی ہدایت فرماتے تھے کہ میرے ساتھ ساتھ یہ دعا د ہراتے جاؤ۔شامیانے کے نیچے پہنچ کر حضرت صاحب نے وضو کیا اور پھر سب دوستوں کے ساتھ قبلہ رخ ہو کر ظہر کی نماز ادا فرمائی۔یہ گو یا ورود ربوہ کا سب سے پہلا کام تھا۔نماز اور سنتوں سے فارغ ہو کر حضور نے ایک مختصر سی تقریر فرمائی ، جس میں فرمایا کہ میں امید رکھتا تھا کہ آنحضرت ﷺ کی ہجرت کی سنت کو سامنے رکھ کر آپ لوگ رستہ تک آگے آکر استقبال کریں گے تا کہ ہم سب متحدہ دعاؤں کے ساتھ ربوہ کی سرزمین میں داخل ہوتے مگر آپ نے ایسا نہیں کیا۔اس لئے اب میں اس کمی کو پورا کرنے کے لئے پھر اس دعا کو دہراتا ہوں اور سب دوست بلند آواز سے میرے پیچھے اس دعا کو دہراتے جائیں۔چنانچہ آپ نے شاید تین دفعہ یا پانچ دفعه رَبِّ اَدْخِلْنِي مُدْخَلَ صِدْقِ اور قُلْ جَاءَ الْحَقُّ والی دعا د ہرائی اور سب دوستوں نے بلند آواز سے آپ کی اتباع کی۔اس کے بعد حضرت صاحب نے مختصر طور پر اس دعا کی تشریح فرمائی کہ یہ دعا وہ ہے جو مدینہ کی ہجرت کیوقت آنحضرت ﷺ کو سکھائی گئی تھی۔اور اس میں ادخلنی ( مجھے داخل کر ) کے الفاظ کو اخرجنى ( مجھے نکال ) کے الفاظ پر اس لئے مقدم کیا گیا ہے تا کہ اس بات کی طرف اشارہ کیا جائے کہ مدینہ میں داخل ہو کر رک جانا ہی آنحضرت ﷺ کی ہجرت کی غرض وغایت نہیں ہے بلکہ یہ صرف ایک درمیانی واسطہ ہے۔اور اس کے بعد پھر مدینہ سے نکل کر مکہ کو واپسی حاصل کرنا اصل مقصد ہے اور پھر اس کے ساتھ قل جاء الحق والی دعا کو شامل کیا گیا۔تا کہ اس بات کی طرف اشارہ کیا جائے کہ مومن کی ہجرت حقیقتاً اعلاء کلمۃ اللہ کی غرض سے ہوتی ہے نیز اس میں اس بات کی طرف بھی اشارہ ہے کہ محمد رسول اللہ علیہ کی ہجرت خدا کے فضل سے مقبول ہوئی ہے کیونکہ خدا نے اس کے ساتھ ہی حق کے قائم ہونے اور باطل کے بھاگنے کے لئے دروازہ کھول دیا ہے۔اور پھر اسی تمثیل کے ساتھ حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ نے قادیان کا ذکر کیا کہ ہم بھی قادیان سے نکالے جا کر ہجرت پر مجبور ہوئے ہیں۔مگر ہمارا یہ کام نہیں کہ اپنی ہجرت گاہ میں ہی دھرنا مار کر بیٹھ جائیں۔بلکہ اپنے اصل اور دائمی مرکز کو واپس حاصل کرنا ہمارا اصل فرض ہے۔اس تقریر کے بعد جس میں ایک طرف موٹروں میں بیٹھے بیٹھے مستورات بھی شریک ہوئی تھیں، حضرت امیر المومنین اپنی ربوہ کی عارضی فرودگاہ میں تشریف لے گئے جو ریلوے اسٹیشن کے قریب تعمیر کی گئی ہے میں نے اس فرودگاہ کو عارضی فرودگاہ اس لئے کہا ہے کہ اب تک جتنی بھی عمارتیں ربوہ میں بنی ہیں وہ دراصل سب کی سب عارضی ہیں اور اس کے بعد پلاٹ بندی ہونے پر مستقل تقسیم ہوگی