مضامین بشیر (جلد 2) — Page 634
مضامین بشیر ۶۳۴ کوئی صورت تجویز کر کے اس پر جماعت کو کاربند کرائیں۔پس جہاں تک انتظامی پہلو کا تعلق ہے یہ سوال کہ اس بات کا کون فیصلہ کرے گا کہ کونسی فلم جائز ہے اور کونسی ناجائز مجھ سے نہیں ہونا چاہیئے بلکہ ناظر صاحب امور عامہ یا ناظر صاحب تعلیم و تربیت سے ہونا چاہیئے اور انہیں کا فیصلہ اس معاملہ میں تابع ہدایت حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ بنصرہ العزیز آخری رنگ رکھتا ہے۔بے شک میرے مضمون کی وجہ سے میرے نقطہ نگاہ سے اتفاق رکھنے والے دوستوں کے نزدیک بعض فلمیں جو خالصہ تاریخی اور تحقیقی اور علمی حقائق پر مبنی ہوں اور خلاف اخلاق عناصر سے بھی پاک ہیں ، جائز سمجھی جائیں گی۔لیکن ایسی فلموں کا عملاً دیکھنا محض میرے مضمون کی وجہ سے ہرگز جائز نہیں ہو جائے گا۔بلکہ اگر اس کے متعلق سلسلہ کی طرف سے کوئی ہدایت ہے تو اس کے لئے سلسلہ کی متعلقہ نظارت سے استصواب ضروری ہوگا۔یہ تو ہوا انتظامی نقطۂ نگاہ سے دوٹوک جواب مگر اس سوال کا علمی جواب یہ ہے کہ شریعت نے بہت سی باتوں میں فیصلہ کو خو دمومنوں کی ذاتی رائے پر چھوڑ دیا ہے اور ان معاملوں میں دخل اندازی نہیں کی بلکہ صرف اصول بیان کر کے اس کا عملی اجراء ہر شخص کی دیانتدارانہ رائے پر چھوڑ دیا گیا ہے۔مثلاً شریعت کہتی ہے کہ اگر تم بیمار ہو جاؤ تو وضو کی بجائے تیمم کر لو یا کھڑے ہو کر نماز پڑھنے کی بجائے بیٹھ کر نماز پڑھ لو لیکن شریعت اس معاملہ میں یہ حکم ہرگز نہیں دیتی کہ بیماری کے متعلق کسی طبیب یا ڈاکٹر سے پوچھ کر فیصلہ کرو بلکہ ہر مومن کی نیک نیتی اور دیانتداری پر اس فیصلہ کو چھوڑ دیتی ہے کہ اگر وہ دیانتداری کے ساتھ اپنے آپ کو بیمار سمجھے تو وضو کی بجائے تیم کر لے اور کھڑے ہو کر نماز پڑھنے کی بجائے بیٹھ کر پڑھ لے۔اسی طرح مثلاً شریعت یہ اصول بیان کرتی ہے کہ اگر تم رمضان کے مہینہ میں بیمار ہو جاؤ تو رمضان کے روزوں کو ملتوی کر کے دوسرے ایام میں گنتی پوری کر لیا کرو۔لیکن اس اصولی ہدایت کے کرنے کے لئے مجبور نہیں کرتی بلکہ مومنوں کی نیک نیتی اور دیانتداری پر فیصلہ چھوڑ دیتی ہے کہ اگر وہ سچے دل سے اور نیک نیتی کے ساتھ (نہ کہ بہانہ جوئی کے رنگ میں ) اپنے آپ کو بیمار سمجھیں تو رمضان کے روزوں کو دوسرے دنوں پر ملتوی کر دیں۔پس جب ان مسائل اور اس قسم کے بیسیوں دوسرے مسائل میں یہ سوال پیدا نہیں ہوتا کہ بیماری کا فیصلہ کون کرے تو سنیما کے معاملہ میں یہ سوال کیوں اٹھایا جاتا ہے کہ کسی فلم کے اچھا یا بُر اہونے کا فیصلہ کون کرے؟ یقیناً اس سوال کی تہہ میں اس کے سوا اور کوئی بات نہیں کہ بہت سے لوگوں کے دل سنیما کی گندی تفریح سے اس قدر متاثر ہو چکے ہیں کہ وہ مختلف قسم کے آنوں بہانوں سے اپنے لئے سہولت کا راستہ کھولنا چاہتے ہیں۔ور نہ اگر نیتیں درست ہوں اور دل پاک جذبات کا حامل ہو تو دراصل نہ تو یہ سوال اٹھتا ہے اور نہ ہی