مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 569 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 569

۵۶۹ مضامین بشیر ۵۹ کے لئے بلکہ ان کی ذات اور خاندانوں کے لئے بھی وَمَنْ لَّمْ يَشْكُرِ النَّاسَ لَمْ يَشْكُرِ اللَّهُ ۶۔سلسلہ کے مرکزی اور مقامی کارکنوں کے لئے بھی دعائیں کی جائیں کہ اللہ تعالیٰ انہیں صحیح طریق پر اور پاک نیت کے ساتھ کام کرنے کی توفیق دے۔اور ان کی خدمت کو سلسلہ کے لئے ترقی اور مضبوطی کا ذریعہ بنائے۔ے۔ان دوستوں کے لئے دعائیں کی جائیں جو اس وقت مختلف قسم کی مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے قادیان میں دھونی رمائے بیٹھے ہیں اور اپنے پاک نمونہ اور مخلصانہ دعاؤں کے ذریعہ جماعت کے لئے برکت اور سرفرازی کا موجب بن رہے ہیں۔۔ان کمزور لوگوں کے لئے بھی دعائیں کی جائیں جن کے قدموں کو ابتلاؤں نے ڈگمگا دیا ہے اور وہ موجودہ مصائب کی آندھی کو برداشت نہ کرتے ہوئے اس رستہ کو قولاً یا عملاً چھوڑنے کی طرف مائل ہو رہے ہیں جو خدا نے دنیا کی نجات اور ترقی کے لئے مقدر کر رکھا ہے۔اور وہ ایک دن ضرور نادم ہو کر پکاریں گے کہ اِنَّا كُنَّ الخَطینَ۔لیکن کاش وہ ندامت کے وقت سے پہلے ہی ٹھوکر سے بچ جائیں اور مصیبت کے وقت میں بے وفائی کے داغ سے اپنا منہ کالا نہ کریں۔۹۔سلسلہ کے نوجوانوں یعنی جماعت کی آئندہ نسل کی اصلاح اور ترقی کے لئے دعائیں کی جائیں۔یہ دعا ئیں بھی نہایت ضروری ہیں کیونکہ کوئی قوم ترقی نہیں کر سکتی بلکہ کوئی قوم زندہ نہیں رہ سکتی جبکہ اسکی اگلی نسل اس بوجھ کو اٹھانے کے قابل نہ ہو جو اس کے کندھوں پر ڈالا گیا ہے۔اور ہمارے موجودہ ابتلاء نے تو نو جوانوں کے لئے کئی قسم کے ٹھوکر کے سامان بھی پیدا کر رکھے ہیں۔۱۰۔پھر حکومت پاکستان کے استحکام اور مضبوطی کے لئے بھی دعائیں کی جائیں کیونکہ اول تو علاوہ عام اسلامی ہمدردی کے جو لوگ اس حکومت کے ماتحت رہتے ہیں، ان کا فرض ہے کہ اس کی مضبوطی کے لئے خدا سے دعائیں کرتے رہیں اور دوسرے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ مشہور الہام کہ غُلِبَتِ الرُّومُ فِى أدْنَى الْأَرْضِ وَهُمُ مِّنْ بَعْدِ غَلَبِهِمْ سَيَغْلِبُونَ - اس طرف اشارہ کر رہا ہے کہ جماعت کے بعض مسائل کا حل بھی اس حکومت کی مضبوطی کے ساتھ وابستہ ہے۔خدا کرنے کہ ہماری دعائیں خدا کے حضور قبولیت کا شرف حاصل کریں اور ہم اس کی رحمت کو قریب تر لا کر اس مقصد کے حاصل کرنے میں کامیاب ہوں جو ہمارے لئے مقرر کیا گیا ہے۔وَاخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينِ ( مطبوعه الفضل ۲۲ جون ۱۹۴۹ء )