مضامین بشیر (جلد 2) — Page 568
۵۶۸ مضامین بشیر دعاؤں کو بھلا دیں۔ذاتی دعاؤں میں بھی دینی غرض مد نظر رکھ سکیں تو بہت بابرکت ہوگا مگر میں یہ تحریک ضرور کروں گا کہ موجودہ ابتلاؤں اور امتحانوں کو مد نظر رکھتے ہوئے وہ دینی اور قومی دعاؤں کی طرف زیادہ توجہ دیں اور میرے خیال میں زیادہ قابل توجہ دینی اور قومی دعائیں یہ ہیں : ا۔آنحضرت ﷺ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر درود بھیجنا جو دراصل دوسرے الفاظ میں اسلام اور احمدیت کی ترقی کی دعا ہے۔کاش دنیا کو معلوم ہوتا کہ درود میں کتنی برکت ہے اور کتنی لذت ! ہاں ہاں کتنی برکت ہے اور کتنی لذت ہے بشرطیکہ آنحضرت ﷺ اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے عظیم الشان احسانوں اور افضال کو مدنظر رکھ کر درود پڑھا جائے اور اس کثرت سے پڑھا جائے کہ اس کی شیرینی اور خنکی سے دل و زبان سیراب ہو جائیں۔۲۔درود کے علاوہ بھی اسلام اور احمدیت کے لئے دعائیں کی جائیں۔کاش کم از کم ہماری جماعت کو اس بات کا پورا پورا احساس ہوتا کہ اگر اس دنیا کی ساری نعمتیں ہمارے قدموں پر لا ڈالی جائیں مگر اسلام احمدیت کو ترقی حاصل نہ ہو تو وہ کچھ بھی نہیں لیکن اگر اسلام اور احمدیت کو ترقی حاصل ہو جائے اور ہمیں ذاتی طور پر دنیا کی نعمتوں سے کوئی حصہ نہ ملے تو وہ ہمارے لئے سب کچھ ہے۔۳۔قادیان کی کامل بحالی اور مرکز ربوہ اور مضبوطی کے لئے دعائیں کی جائیں۔بعض لوگ ان دعاؤں کو متضاد خیال کرتے ہیں۔ہر گز تضاد نہیں بلکہ ایک ہی مقصد کی دعا ہے بلکہ درحقیقت ربوہ کا قیام قادیان کے حصول کے لئے ایک قدم ہے جو خدا کی طرف سے مقدر ہو چکا ہے۔ہما را دائمی مرکز یقیناً قادیان ہے ہمیں مل کر رہے گا۔ہننے والے بیشک نہیں کاش وہ اپنی اس ہنسی کے ساتھ ہماری یہ بات بھی نوٹ کر لیں کہ قادیان ہمیں ضرور ملکر رہے گا اور دنیا کی کوئی طاقت اسے روک نہیں سکتی۔قادیان خدا کے رسول کی تخت گاہ ہے اور تخت گاہ رسول پر کوئی دشمن قوم زیادہ دیر تک اس رنگ میں قابض نہیں رہ سکتی مگر جب تک قادیان ہمیں نہیں ملتا جماعت کے شیرازہ اور تنظیم کو ایک قائمقام مرکز پر جمع رکھنا نہایت ضروری ہے۔بلکہ قادیان کی بحالی کے ساتھ لازم و ملزوم۔۴۔حضرت امیر المؤمنین خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ کی درازی عمر اور آپ کے کاموں میں خدائی نصرت اور برکت اور رحمت کے لئے دعائیں کی جائیں۔امام بے شک صرف ایک انسان ہوتا ہے اور فانی۔اور جماعت ایک دائمی چیز ہے مگر جس وجود کے ذریعے جماعت کا شیرازہ خاص طور پر متحد ہوا ہو۔اس میں خدا نے بے انتہا برکت رکھی ہوتی ہے۔۵۔جماعت کے ان مبلغین کے لئے خواہ وہ آنریری ہیں یا تنخواہ دار جو دنیا کے مختلف حصوں میں تبلیغ و تعلیم کے فرائض سر انجام دے رہے ہیں دعائیں کی جائیں۔نہ صرف ان کے مقاصد کی کامیابی