مضامین بشیر (جلد 2) — Page 558
مضامین بشیر ۵۵۸ وقت تک قادیان میں بھی اس قسم کے تحائف جاتے رہے ہیں لیکن حال ہی میں بعض ان منی آرڈروں کو جو باہر سے قادیان بھجوائے گئے تھے ہندوستان کی حکومت نے روک لیا ہے۔حالانکہ جو احمدی قادیان میں بیٹھے ہیں ان کے گزارہ کی کوئی صورت نہیں ہے کیونکہ ان کی سب جائیدادیں ان کے ہاتھ سے چھینی جا چکی ہیں۔پس ان حالات میں بیرونی منی آرڈروں کو روکنا مقامی مسلمان آبادی کو بھو کے مارنے کے مترادف ہے۔۳۔قادیان میں سالہا سال سے یعنی تقسیم پنجاب سے بھی پہلے سے حکومت جماعت احمدیہ کو اس بات کی اجازت دیتی رہی ہے کہ وہ لنگر خانہ اور دوسرے احمد یہ اداروں کے لئے اکٹھی گندم خرید لیا کریں۔لیکن اس سال حکومت مشرقی پنجاب نے اس بات کی اجازت نہیں دی اور ہدایت جاری کی ہے کہ ہر احمدی اپنا الگ الگ راشن کارڈ حاصل کرے جس کی غرض سوائے اس کے کوئی نظر نہیں آتی کہ قادیان کے احمدیوں کی خوراک کے مسئلہ کو اپنے ہاتھ میں محفوظ کر لیا جائے۔ہمارے دوستوں کی طرف سے یہ دلیل پیش کی گئی کہ جو نظام سالہا سال سے چلا آیا ہے اسے اب بدلنے کی کوئی وجہ نہیں اور انفرادی راشن کارڈوں میں یہ خطرہ بھی ظاہر ہے کہ ہر شخص کو اپنا علیحدہ علیحدہ راشن لینے کے لئے بازار جانا ہوگا۔جس میں ٹکراؤ کے امکانات بڑھ جائیں گے اور پھر جب قادیان کی احمدی آبادی معین ہے اور اس میں حکومت کی اجازت کے بغیر کمی بیشی نہیں ہو سکتی تو پھر اکٹھی خرید کی اجازت دینے میں یہ خطرہ بھی نہیں ہو سکتا کہ ضرورت سے زیادہ گندم خرید لی جائے گی یا کہ خرید کے بعد ضائع کر دی جائے گی۔علاوہ ازیں گندم کا جو بھی ذخیرہ ہوگا وہ بہر حال قادیان میں ہی رہے گا اور حکومت کی نظروں کے سامنے ہوگا۔مگر باوجود ان معقول دلیلوں کے گورنمنٹ نے اپنے حکم کو نہیں بدلا اور ابھی تک یہ اصرار کر رہی ہے کہ ہر احمدی انفرادی راشن کارڈ حاصل کرے۔اوپر کی باتوں سے واضح ہے کہ بر ملاظلم و تشدد اور لوٹ مار کا دور دورہ تو اب بظا ہر گزر چکا ہے۔لیکن اس کی جگہ ایسی پالیسی نے لے لی ہے جسے مخفی مگر منظم تشدد کا نام دیا جا سکتا ہے۔بہر حال ہماری اصل اپیل خدا کے پاس ہے اور وہی انشاء اللہ اپنی جماعت کا حافظ و ناصر ہوگا اور درمیانی ابتلاء خواہ کوئی صورت اختیار کریں آخری فتح و ظفر یقیناً خدا کے نام کی ہے۔اور دنیا کی کوئی طاقت اسے ٹال نہیں سکتی۔وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ الْعَظِيمِ مطبوعه الفضل ۲۰ مئی ۱۹۴۹ء)