مضامین بشیر (جلد 2) — Page 542
مضامین بشیر ۵۴۲ نظام سے فائدہ اٹھانا تو در کنار آج کل کے مسلمانوں نے ورثہ کی جبری تقسیم والے حصہ کو بھی پس پشت ڈال رکھا ہے اور سرمایہ داری کے خمار نے لڑکیوں اور بیویوں اور ماں باپ تک کو ان کے جائز حق سے محروم کر دیا ہوا ہے بہر حال اسلام کا قانونِ ورثہ ایک ایسا بابرکت نظام ہے کہ جس کے ذریعہ تھوڑے تھوڑے وقفہ پر ملک کی دولت کے سمونے کا عمل جاری رہتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ اسلام نے ہدایت بھی دی ہے کہ قومی نسل کو بڑھانے کے ذرائع اختیار کرتے رہو۔پس جب ایک طرف نسل ترقی کرے گی اور دوسری طرف ورثہ وسیع ترین صورت میں تقسیم ہوگا تو ظاہر ہے کہ ملکی دولت خود بخود بنتی چلی جائے گی۔مگر ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمان اس مبارک تعلیم پر عمل کریں۔۲۔دوسرے نمبر پر اسلام کا قانون امداد با ہمی ہے جسے دوحصوں میں تقسیم کیا گیا ہے ایک جبری اور دوسرا طوعی۔جبری قانون نظام زکوۃ سے تعلق رکھتا ہے جس کے ذریعہ امیر لوگوں کی دولت پر حالات کے اختلاف کے ساتھ اڑھائی فیصدی شرح سے لے کر ہمیں فیصدی شرح تک خاص ٹیکس عاید کیا گیا ہے۔اور اس ٹیکس کے ذریعہ جو روپیہ حاصل ہوتا ہے وہ حکومت وقت یا نظام قومی کی نگرانی کے ماتحت غریبوں اور مسکینوں وغیرہ میں تقسیم کر دیا جاتا ہے۔اور ہمارے آقا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس ٹیکس کی غرض و غایت ان الفاظ میں بیان فرماتے ہیں : ۳۸ تؤخذ من اغنيا لهم وتُردّ على فقرائهم _ د یعنی زکوۃ کے نظام کا مقصد یہ ہے کہ امیروں کے اموال کا ایک حصہ کاٹ کر 66 غریبوں کی طرف لوٹایا جائے۔“ اس حدیث میں لوٹا یا جائے کے پر حکمت الفاظ کے استعمال کرنے میں یہ لطیف اشارہ کرنا بھی مقصود ہے کہ زکوۃ کا ٹیکس کوئی صدقہ و خیرات نہیں جو غریبوں کو بطور احسان دیا جاتا ہے بلکہ وہ امیروں کی دولت میں غریبوں کا ابدی حق ہے جو انہیں طبعی طریق پر حاصل ہے کیونکہ جیسا کہ ہر شخص سمجھ سکتا ہے ہر مال کے پیدا کرنے میں غریبوں اور مزدوروں کا بھی کافی دخل ہوتا ہے۔زکوۃ کے نظام کے متعلق یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیئے کہ خدائے حکیم نے ایسے اموال پر زکوۃ کی شرح زیادہ مقرر فرمائی ہے جو تجارت کے چکر میں نہیں آتے۔چنانچہ بند ذخائر پر زکوۃ کی شرح ہیں فیصدی رکھی گئی ہے اس کی وجہ بھی یہی ہے کہ جہاں تجارت یا صنعت میں لگے ہوئے روپے میں سے غریب اور مزدور پیشہ لوگ دوسرے طریق پر بھی کچھ نہ کچھ حصہ لے لیتے ہیں وہاں جمع شدہ ذخائر میں انہیں کوئی حصہ نہیں ملتا اس لئے ذخائر میں زکوۃ کی شرح بہت بڑھا کر رکھی گئی ہے۔