مضامین بشیر (جلد 2) — Page 543
۵۴۳ مضامین بشیر امداد باہمی کے نظام کا دوسرا حصہ طوعی نظام کی صورت میں قائم کیا گیا ہے اور اس نظام کے ماتحت اسلام نے غریبوں اور بے کس لوگوں کی امداد پر اتنا زور دیا ہے کہ حق یہ ہے کہ ایک نیک اور خدا ترس انسان کے لئے یہ صورت بھی قریباً جبری نظام کا رنگ اختیار کر لیتی ہے۔گو ذاتی نیکی کے معیار کو بلند کرنے اور اخوت کے جذبات کو ترقی دینے کے لئے اسے قانون کی صورت نہیں دی گئی۔بھوکوں کو کھانا کھلانا۔ننگوں کو کپڑا پہنانا۔مقروضوں کو قرض کی مصیبت سے نجات دلانا۔بیماروں کے لئے علاج کا انتظام کرانا۔غریب مسافروں کو ان کی منزل مقصود تک پہنچانا۔یتیموں اور بیواؤں کو خاک آلودہ ہونے سے بچانا وغیرہ وغیرہ ایسی نیکیاں ہیں جن کی تحریک و تحریص میں قرآن وحدیث بھرے پڑے ہیں اور خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ذاتی اسوہ اس معاملہ میں یہ تھا کہ رمضان کے متعلق جو غریبوں کی ضروریات کا خاص زمانہ ہوتا ہے اور اس کے بعد عید بھی آنے والی ہوتی ہے آپ کا ہاتھ غریبوں اور محتاجوں کی امداد میں اس طرح چلتا تھا کہ جس طرح ایک تیز آندھی چلتی ہے جو کسی روک کو خیال میں نہیں لاتی۔الغرض زکوۃ کے جبری نظام اور دوسرے صدقات کے طوعی نظام کے ذریعہ اسلام نے امیروں کی دولت کاٹ کر غریبوں کو دینے اور اس طرح ملکی دولت کو سمونے کی ایک عظیم الشان مشینری قائم کر رکھی ہے۔( مطبوعه الفضل مئی ۱۹۴۹ء ) ۳۔تیسرے نمبر پر اسلام کا قانون تجارت ہے جس کی رو سے اسلام میں سودی لین دین ممنوع قرار دیا گیا ہے اور آج دنیا کا سمجھ دار طبقہ اس بات کو محسوس کر چکا ہے کہ سود ہی وہ چیز ہے جو ملکی دولت کے توازن کو برباد کرنے کی سب سے زیادہ ذمہ دار ہے کیونکہ اس کے ذریعہ غریبوں کا روپیہ سمٹ سمٹ کر آہستہ آہستہ امیروں کے خزانوں میں جمع ہو جاتا ہے۔اگر غور کیا جائے تو دراصل سود کی لعنت ہی سرمایہ داری کے پیدا کرنے کی بڑی موجب ہے۔اگر آج سود بند ہو جائے تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ اول تو آہستہ آہستہ ملک کی بڑی بڑی تجارتیں یا تو حکومت کے ہاتھ میں چلی جائیں گی اور یا چھوٹی چھوٹی مناسب تجارتوں میں تقسیم ہو کر ملک کی دولت کو خود بخو دسمودیں گی اور دوسرے امیروں کے لئے غریبوں کے پسینہ کی کمائی پر ڈاکہ ڈالنے کا موقعہ نہیں رہے گا۔یہ خیال کہ سودی نظام کے بند ہونے سے تجارت ناممکن ہو جائے گی بالکل غلط اور باطل ہے۔ایسا خیال صرف موجودہ بند ماحول کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے جبکہ یورپ و امریکہ کے سرمایہ داروں کی نقالی کے نتیجہ میں سود کا جال وسیع ہو چکا ہے ورنہ جب سود نہیں تھا اس وقت دنیا کی تجارت چلتی ہی تھی