مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 470 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 470

مضامین بشیر ۴۷۰ کشمیر میں لڑائی بند ہوگئی ! مگر کشمیر کی مہم کا اصل کام اب شروع ہوتا ہے استصواب رائے عامہ کے لئے وسیع انتظام کی ضرورت کل شام کو ریڈیو سے یہ خبر نشر ہوئی جو آج اخباروں میں چھپ بھی گئی ہے کہ مجلس اقوام متحدہ کی ہدایت کے ماتحت پاکستان اور ہندوستان کی حکومتوں نے استصواب رائے عامہ کے اصول کو تسلیم کر کے اس کی جدید شرائط کو مان کر کشمیر میں لڑائی بند کر دینے کا فیصلہ کیا ہے۔یہ لڑائی گذشتہ شب کو بارہ بجے سے ایک منٹ قبل بند ہو چکی ہو گی۔ایک منٹ قبل کی شرط اس لئے لگائی گئی ہے تا کہ لڑائی کا یہ خاتمہ یکم جنوری کی تاریخ میں شمار ہو سکے اور نئے سال کا آغا ز اچھی فال کے ساتھ ہو۔طبعا اس فیصلہ پر دونوں حکومتوں کے لیڈروں نے تسلی اور خوشی کا اظہار کیا ہے اور بات بھی یہی ہے۔اگر امن اور صلح کے ساتھ منصفانہ فیصلہ ہو سکے، کوئی عقلمند لڑائی کے طریق کو اچھا نہیں سمجھ سکتا۔لیکن ضروری ہے کہ جو شرائط رائے عامہ کے شمار کرنے کے لئے فیصلہ کی گئی ہیں اور جن کی تفصیل کا ابھی تک اعلان نہیں ہوا ، وہ حق وانصاف پر مبنی ہوں تا کہ رائے شماری کا کام صیح معنوں میں پوری پوری آزادی کے ساتھ سرانجام پاسکے اور کسی قسم کی نا واجب دخل اندازی یا دباؤ یا دھمکی یا لالچ کا احتمال باقی نہ رہے۔سوان باتوں کا اندازہ کچھ تو شرطوں کے اعلان پر اور کچھ ان کے عملی اجراء پر ہو سکے گا کیونکہ کئی باتیں کہی اور طرح جاتی ہیں اور عملاً ہوتی اور طرح ہیں۔لیکن اس جگہ جس خاص بات کی طرف میں توجہ دلانا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ آزاد گورنمنٹ اور حکومت پاکستان کو ابھی سے استصواب رائے عامہ کے لئے تیاری شروع کر دینی چاہیئے۔اس کے کام کا تجربہ رکھنے والے لوگ جانتے ہیں کہ یہ کام کس قدر بھاری اور کس قدر نازک اور کس قدر پیچیدہ ہوا کرتا ہے۔حق یہ ہے کہ اس کام کے مقابلہ پر ایک طرح سے بند ہونے والی جنگ