مضامین بشیر (جلد 2) — Page 471
۴۷۱ مضامین بشیر بھی کوئی حقیقت نہیں رکھتی اور اگر خدانخواستہ ہمارے کارکنوں کی ستی یا غفلت یا غلطی سے اس کام کو نقصان پہنچ گیا تو یہ ایک ایسا نقصان ہوگا جس کی تلافی بعد میں کبھی نہیں ہو سکے گی۔بدقسمتی سے ہماری قوم کا ایک حصہ بلکہ معتد بہ حصہ صرف زور لگانا جانتا ہے اور باقاعدہ تنظیم کے طریق پر جد و جہد نہیں کر سکتا۔حالانکہ جن حالات میں کشمیر کی ریاست میں رائے شماری کا کام ہوتا نظر آتا ہے، وہ بڑی بھاری تنظیم اور نہایت وسیع انتظامات اور ایک لمبے عرصہ کی مسلسل جد و جہد چاہتا ہے۔جس کے لئے ہزاروں محنتی اور سمجھدار کارکنوں کو ایک وسیع علاقہ میں پھیلانا ہوگا۔یہ خیال کرنا کہ ہر مسلمان کہلانے والا لازماً پاکستان کے حق میں ووٹ دے گا یا یہ کہ ہر غیر مسلم لازماً ہندوستان کے حق میں ووٹ دے گا، درست نہیں ہے بلکہ کمزور مسلمانوں کو سنبھالنے اور انصاف پسند غیر مسلموں کو اپنی طرف کھینچنے کے لئے بھاری جد و جہد کی ضرورت ہے۔اس کے علاوہ کشمیر میں رائے شماری کا کام اپنے ساتھ یہ خاص مشکل بھی رکھتا ہے کہ لاکھوں مسلمان ریاست کی حدود سے بھاگ کر پاکستان کے مختلف حصوں میں پناہ لے چکے ہیں اور ہزاروں مارے بھی جاچکے ہیں اور بعض مظلوم مسلمان دور افتادہ جیلوں میں یا اغوا ہو کر غیر مسلم اکابر کی حراست میں بھی محبوس ہوں گے۔پس گو ہم مرے ہوئے لوگوں کو تو واپس نہیں لا سکتے مگر ان لاکھوں پراگندہ اور منتشر شدہ ووٹروں کو جمع کرنا ایک بہت بڑا کام ہے۔یہ خیال کرنا کہ کشمیر کے پناہ گزین صرف سیالکوٹ اور گجرات اور جہلم اور راولپنڈی وغیرہ کے سرحدی ضلعوں کے ریفیو جی کیمپوں میں ہی جمع شدہ بیٹھے ہیں ہرگز درست نہیں۔کیونکہ ایک بھاری تعداد کیمپوں سے باہر مختلف مقامات میں پھیل چکی ہے اور پھر ایک بڑی تعداد ایسی بھی ہے جو ان ضلعوں کی حدود سے نکل کر پنجاب کے باقی اضلاع یا صوبہ سرحد یا سندھ وغیرہ کی طرف جا چکی ہے اور ان میں سے بعض کی جائے قیام کا پتہ لگا نا بھی آسان کام نہیں۔لیکن بہر حال اگر اس الیکشن کو جیتنا ہے تو پھر ان سب منتشر دھاگوں کو سمیٹ کر ایک جگہ جمع کرنا ہوگا اور یہ وہ کام ہے جس کے لئے حکومت کو نہ صرف مسلم لیگ اور دوسری پبلک جماعتوں کا تعاون درکار ہوگا بلکہ دراصل ملک کے ہر فرد اور ہر شہری کی امداد ضروری ہوگی۔اسی طرح اس بات پر بھی کڑی نگرانی رکھنی ہوگی کہ کوئی فریق فرضی اور جعلی ووٹیں بھگتا کرنا جائز ذرائع استعمال کرنے کی کوشش نہ کرے۔یا ووٹروں پر دباؤ یا لالچ کا اثر ڈال کر صحیح طریق انتخاب میں رخنہ انداز نہ ہو۔الغرض یہ ایک بہت وسیع اور بہت بھاری اور بہت نازک کام ہے، جس کے لئے لمبی اور غیر معمولی تیاری کی ضرورت ہے اور مسلمان پر یس کا یہ فرض ہے کہ ابھی سے اس معاملہ میں پراپیگنڈا