مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 455 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 455

۴۵۵ مضامین بشیر دو بیرون ہند مبلغین کے والد صاحبان کی وفات چوہدری عمر دین صاحب اور ملک خدا بخش صاحب مرحوم حال ہی میں ہمارے دو بیرون ہند و پاکستان مبلغوں کے والد صاحبان کی وفات واقع ہوئی ہے۔اپنے عزیزوں اور دوستوں کی جدائی کا صدمہ تو ہر حال میں ہی بہت رنجدہ اور صبر آزما ہوا کرتا ہے لیکن ایسے واقعات کہ جب لڑکا اعلائے کلمۃ اللہ کی غرض سے سمندر پار گیا ہوا ہو اور اس کے پیچھے اس کے والد کی وفات ہو جائے۔یہ اس قسم کے واقعات ہیں کہ جن میں یقیناً صدمہ کی نوعیت زیادہ شدت اور زیادہ تلخی اختیار کر لیتی ہے اور جماعت کا فرض ہے کہ ایسے حالات میں مرنے والوں کی روحوں کی مغفرت اور بلندی درجات اور پسماندگان کی دینی و دنیوی ترقی اور بامرادی کے لئے زیادہ دعا کیا کریں کہ یہی وہ سب سے بہتر تحفہ ہے جو ایک بھائی دوسرے بھائی کو دے سکتا ہے۔جن دوستوں کی وفات کی طرف میں نے اوپر اشارہ کیا ہے ان میں سے ایک تو چوہدری خلیل احمد صاحب ناصر مبلغ امریکہ کے والد چوہدری عمر الدین صاحب ہیں۔اور دوسرے ملک عطاءالرحمن صاحب مبلغ فرانس اور ملک احسان اللہ صاحب مبلغ افریقہ کے والد ملک خدا بخش صاحب ہیں۔چوہدری عمرالدین صاحب کو جو کچھ عرصہ ہوا کراچی میں فوت ہوئے غالباً زیادہ لوگ نہیں جانتے ہوں گے۔کیونکہ وہ ایک کم گو اور الگ تھلگ رہنے والے انسان تھے مگر میں انہیں سالہا سال سے جانتا تھا۔اور میرے دل پر ان کی نیکی اور اخلاص کا بہت اچھا اثر تھا۔غالباً وہ خود تعلیم یافتہ نہیں تھے یا شاید بہت کم تعلیم ہوگی۔مگر ایمان اور اخلاص کا تعلق ظاہری تعلیم کے ساتھ نہیں ہوتا بلکہ دل کے جذبات کے ساتھ ہوتا ہے۔اور میں یقین رکھتا ہوں کہ چوہدری عمرالدین صاحب مرحوم دل کے جذبات کے لحاظ سے بہت بے نفس اور مخلص بزرگ تھے اور ان کو اللہ تعالیٰ نے یہ سعادت بھی عطا کی تھی کہ ان کا ایک بچہ دین ودنیا کی اعلیٰ تعلیم پا کر خدمت اسلام کے لئے امریکہ بھجوایا گیا۔میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے سنا ہے کہ ایمان تین قسم کا ہوتا ہے۔ایک ان لوگوں کا ایمان جو علم اور عرفان میں اعلیٰ درجہ رکھتے ہیں اور ان کے تمام عقائد بصیرت پر مبنی ہوتے ہیں اور ہر امکانی شبہ جو ایمان یا عقائد کے راستہ میں پیدا ہوسکتا ہے اسکے دفعیہ کے لئے ان کا دماغ ہر وقت تیار ہوتا ہے۔دوسرے ان لوگوں کا ایمان جو