مضامین بشیر (جلد 2) — Page 456
مضامین بشیر ۴۵۶ بین بین کی حالت میں ہوتے ہیں۔یعنی ان کا علم اور عرفان کامل نہیں ہوتا مگر کسی قدر مطالعہ ضرور ہوتا ہے اور سوچنے کی عادت بھی ہوتی ہے لیکن اعلیٰ عرفان اور پورا علم کے نہ ہونے کی وجہ سے ایسے لوگ بعض اوقات ٹھو کر بھی کھا جاتے ہیں۔تیسرے ان لوگوں کا ایمان جو ایک مصلح کی غیر معمولی نیکی یا اس کی تائید میں کوئی خاص نشان الہی دیکھ کر ایمان لے آتے ہیں اور تفصیلات سے ان کو سروکار نہیں ہوتا۔بلکہ وہ تفاصیل کے معاملہ میں ایمان بالغیب کا طریق اختیار کرتے ہوئے آمنا و صدقنا کے مقام پر قائم رہتے ہیں۔حضور فرمایا کرتے تھے کہ یہ تیسری قسم کا ایمان دین العجائز کہلاتا ہے اور فرماتے تھے کہ عام لوگوں کا دین یہی ہوتا ہے اور ان کے لئے مناسب ہے کیونکہ اس طرح وہ درمیانی لوگوں کی نسبت ٹھوکروں سے زیادہ محفوظ رہتے ہیں۔بہر حال چوہدری عمر الدین صاحب مرحوم ایک مخلص بزرگ تھے۔اللہ تعالیٰ ان کی روح کو اپنی رحمت کے سایہ تلے جگہ دے اور ان کی اولاد کا حافظ و ناصر ہو اور دین و دنیا کی ترقی سے نوازے۔آمین دوسرے بزرگ ملک خدا بخش صاحب مرحوم تھے۔میں ملک صاحب مرحوم کو بڑے لمبے عرصہ سے جانتا ہوں۔وہ نہایت مخلص اور فدائی اور سچے معنوں میں سلسلہ کے ایک قابل قدر کا رکن تھے جب کبھی سلسلہ کا کوئی کام پیش آتا تھا تو وہ اس کام میں ہمیشہ دوسروں سے پیش پیش نظر آتے تھے۔اور اس بات میں ذرہ بھر شبہ نہیں کہ وہ لاہور کی جماعت کے ایک بھاری رکن تھے۔جن کی وفات نے لاہور کی جماعت میں یقیناً ایک خلا پیدا کر دیا ہے۔میں ان لوگوں میں سے تو نہیں ہوں کہ یہ سمجھوں یا یوں کہوں کہ فلاں خلا ایسا ہے کہ جو کسی طرح بھر انہیں جا سکتا کیونکہ ایسا خیال خدا کی صفت خلق و تکوین کے خلاف ہے۔اور اسی طرح وہ ہمارے مشاہدہ کے بھی خلاف ہے۔مگر میں یہ بات ضرور کہوں گا کہ یہ خلا ایسا ہے جسے لاہور کی جماعت کو خاص توجہ کے ساتھ بھرنے کی کوشش کرنی چاہیئے۔جب میں ملک صاحب مرحوم کا جنازہ پڑھنے کے لئے آیا تو مرحوم کے اوصاف حمیدہ کو یاد کر کے میرے دل میں اچانک یہ خیال پیدا ہوا کہ علم اور بصیرت رکھنے والے مومن بھی دراصل دو قسم کے ہوتے ہیں۔ایک وہ جن کے ایمان کا مرکزی نقطہ ان کے دماغ یعنی مرکز عقل میں ہوتا ہے اور دوسرے وہ جن کے ایمان کا مرکزی نقطہ ان کے دل یعنی مرکز جذبات میں ہوتا ہے۔ان میں سے قسم اول کے مومنوں کی توجہ زیادہ تر دلائل اور براہین کی طرف رہتی ہے اور ان کے خیالات کا محور زیادہ تر عقل کے اردگرد چکر لگاتا ہے۔لیکن دوسری قسم کے مومنوں کی توجہ زیادہ تر اخلاص اور جذبات میں مرکوز ہوتی ہے اور ان کے خیالات کا محور محبت پر قائم ہوتا ہے۔اور میں نے مکرمی شیخ بشیر احمد صاحب امیر جماعت لاہور سے کہا کہ میرے خیال میں ملک صاحب مرحوم دوسری قسم کے مخلصین میں شامل تھے جن کے ایمان کے