مضامین بشیر (جلد 2) — Page 33
۳۳ مضامین بشیر ہوتے یا ان کا مذہب و تمدن ہندوؤں کے مذہب اور تمدن سے الگ نہ ہوتا یا ان کی قومی ضروریات ہندوؤں کی قومی ضروریات سے جدا نہ ہوتیں۔یا با وجود ان ساری باتوں کے ان میں علیحدگی کی خواہش نہ ہوتی تو پھر بے شک ہندوؤں کا اکھنڈ ہندوستان کا مطالبہ جائز اور درست تھا۔لیکن جب کہ حق خود اختیاری کی ساری شرائط موجود ہیں تو پھر مسلمانوں کو اس حق سے محروم کرنا نہ صرف قرین انصاف نہیں بلکہ ملک میں ایسے فتنہ کے بیج بونے کے مترادف ہے کہ جو آئندہ چل کر انگریز آمریت سے بھی زیادہ بھیانک صورت اختیار کر سکتا ہے۔پس موجودہ حالات میں ہندوؤں کے لئے صرف ایک ہی معقول اور منصفانہ راستہ کھلا ہے اور وہ یہ کہ وہ دل کی سچی تبدیلی ثابت کر کے مسلمانوں کو ایسی پختہ اور مستقل مراعات اور ایسے یقینی تحفظات دے دیں کہ ان کے دل میں علیحدگی کی خواہش خود بخود مدھم پڑ جائے۔اور وہ ہندوؤں کے ساتھ مل کر ایک مشترک نظام میں رہنے کے لئے تیار ہو جا ئیں اور یہ صورت ہرگز ناممکن نہیں۔مسلمان طبعا فیاض دل ہے اور ” بھول جاؤ اور معاف کر دو کے اصول کی طرف بہت جلد کھینچا جا سکتا ہے۔پس جو بات جبر سے حاصل نہیں ہو سکتی اسے محبت کی زنجیروں سے کھینچ لو۔کیونکہ محبت کی قوت جبر کی طاقت سے بہت زیادہ دائمی ہے۔اور دوستی کی کشش دشمنی کے دباؤ سے کہیں زیادہ زور دار۔مگر یاد رکھو کہ اصولاً قربانی دکھانا ہندوؤں کے ذمہ ہے کیونکہ ہندوستان میں ان کی اکثریت ہے اور دولت و تعلیم میں بھی وہ مسلمانوں سے بہت آگے ہیں۔پس اگر وہ فراخ دلی کے ساتھ مسلمانوں کو اب بھی صوبوں میں مکمل اور حقیقی خود مختاری دیں اور مرکز میں بھی ان کے لئے برابری کے حقوق اور پختہ تحفظات محفوظ کر دیئے جائیں تو اس طرح مسلمان کا پاکستان کا مطالبہ قریباً قریباً پورا ہو جاتا ہے۔اور ہندو بھی اکھنڈ ہندوستان کے خواب سے محروم نہیں رہتا اور ملک کی شان بھی قائم رہتی ہے۔کاش ایسا ہو سکے۔اے کاش ایسا ہو سکے اور نتیجہ اس کے سوا کچھ نہیں ہوگا کہ ہندوستان ایک خطر ناک جنگ کی آگ سے نکل کر دوسری خطرناک جنگ کی آگ میں جاگرے گا اور نہ پاکستان باقی رہے گا اور نہ اکھنڈ ہندوستان۔بس اس سے زیادہ میں اس وقت کچھ نہیں کہوں گا کیونکہ باقی تفاصیل کا بیان کرنا موجودہ حالات میں انتشار کا موجب ہو سکتا ہے جو اس وقت مناسب نہیں۔( مطبوعه الفضل ۱۳ رمئی ۱۹۴۶ء )