مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 282 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 282

مضامین بشیر ۲۸۲ اس رویاء سے ظاہر ہے کہ قادیان میں جماعت کی واپسی کے راستہ میں بعض بھاری روکیں ہیں۔اور واپسی کا راستہ غیر معمولی خطرات سے پُر ہے۔جس کی وجہ سے کم از کم واپسی کی ایک ابتدائی کوشش خدائی تقدیر کے ماتحت ناکام ہونی مقدر ہے۔(۲) لیکن دوسرے الہاموں سے پتہ لگتا ہے کہ ابتدائی نا کامی کے بعد خدا کے فضل سے یہ روکیں دور ہونی شروع ہو جائیں گی اور قادیان کی واپسی کا راستہ کھل جائے گا مگر بعض مکاشفات سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ وا پسی تدریجی رنگ میں ہوگی اور واپسی کی پہلی قسط ایسے حالات میں ہوگی کہ قادیان میں گویا ابھی ظلمت اور تاریکی کا ماحول قائم ہو گا۔اور جماعت اپنے تبلیغی اور تعلیمی اور تربیتی اور تنظیمی پروگرام کو پوری آزادی کے ساتھ نہیں چلا سکے گی اور اس کا راستہ تاریکی کی ٹھوکروں میں مبتلا ہو گا۔چنانچہ اس بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک غیر مطبوعہ رؤیا کا پتہ لگا ہے جو نہ معلوم کس غلطی کی وجہ سے چھپنے سے رہ گیا ہے مگر اس کا ثبوت خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریری یادداشتوں میں ملتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :- و میں نے دیکھا کہ میں کسی باہر کے مقام سے قادیان آیا ہوں مگر اس وقت قادیان کی گلیوں میں سخت اندھیرا ہے۔حتی کہ راستہ ٹول ٹول کر چلنا پڑتا ہے اور ہاتھ تک دکھائی نہیں دیتا۔میں ان مکانوں کے پاس سے جو ہمارے مکان کے ساتھ سکھوں کے ہیں اس گلی میں سے ہوتا ہوا جس کے پاس وہ گوردوارہ واقع ہے جو کسی زمانہ میں مسجد ہوتا تھا کشمیریوں کی گلی کی طرف رستہ ٹولتا ہوا جاتا ہوں اور یہ دعا کرتا رہتا ہوں رَبِّ تجلَّى رَبِّ تَجلَّى ) یہ الفاظ میں نے اپنی یادداشت سے لکھے ہیں۔اس وقت اصل حوالہ نہیں ملا مگر بہر حال اس مفہوم کا حوالہ ضرور موجود ہے اور انشاء اللہ اصل حوالہ ملنے پر معین الفاظ شائع کر دئے جائیں گے ) * ی میں نے خواب میں دیکھا کہ میں قادیان کی طرف آتا ہوں اور نہایت اندھیری اور مشکل راہ ہے اور میں رجَمًا بالغيب قدم مارتا جاتا ہوں اور ایک غیبی ہاتھ مجھ کو مدددیتا جاتا ہے۔یہاں تک کہ میں قادیان پہنچ گیا اور جو مسجد سکھوں کے قبضہ میں ہے وہ مجھ کو نظر آئی۔پھر میں سیدھی گلی میں جو کشمیریوں کی طرف سے آتی ہے ، چلا۔اس وقت میں نے اپنے تئیں ایک سخت گھبراہٹ میں پایا کہ گویا اس گھبراہٹ سے بے ہوش ہوتا جاتا ہوں اور اس وقت بار بار ان الفاظ سے دعا کرتا ہوں کہ رَبِّ تَجَلَّى رَبِّ تَجَلی اور ایک دیوانہ کے ہاتھ میں میرا ہاتھ ہے اور وہ بھی رَبِّ تجلی کہتا ہے اور بڑے زور سے میں دعا کرتا ہوں اور اس سے پہلے مجھ کو یاد ہے کہ میں نے اپنے لئے اور اپنی بیوی کے لئے اور اپنے لڑ کے محمود (بقیہ اگلے صفحہ پر)