مضامین بشیر (جلد 2) — Page 281
۲۸۱ مضامین بشیر قادیان میں جماعت کی واپسی کس صورت میں ہوگی ؟ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعض مکاشفات پر ایک سرسری نظر کچھ عرصہ ہوا میں نے لکھا تھا کہ میں انشاء اللہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ان الہاموں اور خوابوں کو ایک جگہ جمع کر کے جن میں جماعت کے قادیان سے نکلنے اور پھر قادیان میں واپس آجانے کے متعلق خدائی اطلاع ہے، ایک تبصرہ لکھوں گا۔چنانچہ میں نے اس معاملہ میں کچھ تیاری بھی کی مگر پھر طبیعت کی خرابی کی وجہ سے اس ارادہ کو عملی جامہ نہیں پہنا سکا۔لیکن اب مجھے خیال آتا ہے کہ فی الحال میں صرف قادیان کی واپسی کے متعلق (نہ کہ قادیان سے نکلنے کے متعلق ) ایک مختصر نوٹ میں یہ بتا دوں کہ میرے نزدیک حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہا موں اور خوابوں سے واپسی کی کیا صورت ثابت ہوتی ہے۔تا اگر کسی دوسرے دوست کو توفیق ملے تو وہ اس بارے میں مزید تحقیق کر کے اس مضمون کے سارے پہلوؤں کو مکمل کر سکے۔اور اس میں قادیان پر حملہ ہونے اور قادیان سے نکلنے والے الہاموں کو بھی شامل کر لے۔بہر حال میرا ذیل کا نوٹ ایک اشارہ سے زیادہ حقیقت نہیں رکھتا اور میں نے اس میں لیا بھی صرف چند الہاموں کو ہے کیونکہ اس وقت میری طبیعت علیل ہے اور میں زیادہ نہیں لکھ سکتا۔(1) سب سے پہلی بات جو میں بتانا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعض مکاشفات سے پتہ لگتا ہے کہ جب خدائی تقدیر کے ماتحت جماعت احمد یہ ایک وقت کے لئے اپنے مرکز سے نکلنے پر مجبور ہوگی تو پھر اس کے بعد اسے فوراً ہی واپس جانے کا موقع نہیں ملے گا کیونکہ واپسی پر بعض ایسی روکیں ہوں گی کہ واپسی کی بعض ابتدائی کوششیں لاز ما نا کام جائیں گی۔چنانچہ اس بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنا ایک رؤیا ذیل کے الفاظ میں بیان فرماتے ہیں :- میں کسی اور جگہ ہوں اور قادیان کی طرف آنا چاہتا ہوں۔ایک دو آدمی ساتھ ہیں۔کسی نے کہا راستہ بند ہے۔ایک بڑا کر ذخار چل رہا ہے۔میں نے دیکھا کہ واقع میں کوئی دریا نہیں بلکہ ایک بڑا سمندر ہے اور پیچیدہ ہو ہو کر چل رہا ہے ، جیسے سان: چلا کرتا ہے۔ہم واپس چلے آئے کہ ابھی راستہ نہیں اور یہ راہ بڑا خوفناک ہے۔