مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 198 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 198

مضامین بشیر ۱۹۸ ( دوم ) دوسری قسم زندگی کی وہ ہے جسے اعلیٰ حیوانی زندگی کے الفاظ سے یاد کر سکتے ہیں۔اس زندگی میں انسان کی نظر اپنے نفس یا اپنے قریبی رشتہ داروں سے آگے نکل کر اپنے قبیلہ یا اپنی قوم یا اپنے علاقہ یا اپنے ملک یا بین الا قوام بہبودی اور ترقی کی غرض و غایت کو اپنی توجہ کا مرکز بناتی ہے۔مگر رہتی بہر حال دنیا کی مادی ضروریات کی تکمیل تک محدود ہے۔ایسے لوگ دن رات اپنی اور دوسرے لوگوں کی خاطر جد و جہد کرنے اور قوموں اور ملکوں کی زندگیوں کو بہتر بنانے میں منہمک نظر آتے ہیں۔مگر ان کی نظر نسل انسانی کے مادی آرام و آسائش اور مادی ترقی سے آگے نہیں گزرتی۔ان کی قوم یا ان کا ملک یا دنیا کی مختلف تو میں یا دنیا کے مختلف ملک اچھا کھائیں، اچھا پئیں ، اچھے مکانوں میں رہیں ، اچھے حالات میں سفر کریں ، اچھی تفریحوں میں حصہ لے سکیں ، بیماریوں میں اچھا علاج حاصل کر سکیں ، قومی اور ملکی ترقی کے لئے اچھی تجاویز سوچ سکیں، ایک دوسرے کے ساتھ معاملہ کرنے میں اچھے ضابطہ کے پابند ہوں یا اگر یہ ضابطہ ناکام رہے تو ایک دوسرے کے مقابلہ پر اچھا لڑسکیں وغیرہ وغیرہ۔سینکڑوں قسم کے مادی شعبے ہیں جو اس قسم کے ترقی یافتہ انسانوں کی توجہ کا مرکز بنے رہتے ہیں۔مگر خواہ ان کا دائرہ عمل کتنا ہی وسیع ہو، بہر حال یہ بھی ایک قسم کی حیوانی زندگی ہے۔جو گو یقیناً پہلی قسم کی زندگی سے تو بہت اعلیٰ ہے مگر ہے پھر بھی حیوانی اور سفلی زندگی اور اسی قسم کے لوگوں کے متعلق قرآن شریف فرماتا ہے۔ضَلَّ سَعْيُهُمْ فِي الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَهُمْ يَحْسَبُونَ أَنَّهُمْ يُحْسِنُونَ صُنْعَان - د یعنی ان لوگوں کی زندگی بھی دراصل مادی دنیا کی بھول بھلیوں میں کھوئی ہوئی ہوتی ہے۔گو وہ سمجھتے ہیں کہ ہم دنیا میں بہت اچھے اچھے کام کرنے والے ہیں۔“ ( سوم ) تیسری قسم کی زندگی وہ ہے جسے ادنی روحانی زندگی کا نام دے سکتے ہیں اس قسم کی زندگی میں انسان کی نظر اس دنیا کے مادی ماحول سے آگے نکل کر خدا تعالیٰ تک پہنچتی ہے۔اور وہ اپنے خالق و مالک کو پہچان کر اس پر ایمان لاتا ہے۔اور اپنی سمجھ کے مطابق اس کے احکام پر عمل کرنے اور اس کا عبد بننے کی کوشش کرتا ہے اور وہ اس زندگی کے بعد ایک اور زندگی پر بھی یقین رکھتا ہے۔مگر اس کا ایمان ایسا پختہ نہیں ہوتا۔اور نہ اس کی روحانیت اتنی ترقی یافتہ ہوتی ہے کہ وہ خدا کی ہستی اور اس کے عبد بننے کے جذبہ کو دنیا کی نجات اور انسان کی ترقی کا ذریعہ سمجھتے ہوئے دوسرے لوگوں کو بھی سمجھا سمجھا کر خدا کی طرف کھینچ لانے کی کوشش کرے۔وہ اپنے دل میں روحانیت کا جذبہ رکھتا ہے اور اُخروی زندگی پر نظر رکھتے ہوئے نیک اعمال بجالانے کی کوشش کرتا ہے۔اور بعض اوقات اپنے اہل وعیال کو بھی نیک بنانے میں کسی حد تک ساعی رہتا ہے۔مگر اس کے ایمان کی موٹر اتنی طاقتور نہیں ہوتی کہ وہ دوسروں کو بھی اپنے ساتھ کھینچ سکے یا انہیں خدا کی طرف کھینچ لانے کی طرف متوجہ رہے۔یہ لوگ وہ ہیں 66