مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 120 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 120

مضامین بشیر ۱۲۰ جاتے تھے وہ بے شک کلیۂ ہمارے انتظام میں تھے (سوائے اس دخل اندازی کے جو ملٹری کی طرف سے ہوتی رہتی تھی اور دن بدن بڑھتی جاتی تھی اور میں نے ایسے جماعتی ٹرکوں کے لئے ایک مستعد عملہ اور کچھ اصولی ہدا یتیں مقرر کر رکھی تھیں اور ہر باہر جانے والی پارٹی کو با قاعدہ ٹکٹ ملتا تھا جس میں باہر جانے والی عورتوں اور بچوں کی تعداد اور سامان کی مقدار درج ہوتی تھی جس کے مطابق مقررہ عملہ چیک کر کے سواریاں بٹھاتا تھا۔سامان کا اصول سب پر یکساں چسپاں ہوتا تھا اور اس میں ضروریات زندگی کی چیزوں کو مقدم رکھا گیا تھا۔مثلاً بستر اور پہننے کے کپڑے یا بعض صورتوں میں اقل تعداد میں کھانے کے برتن وغیرہ اور پارٹی کی تعداد کے مطابق سامان میں کمی بیشی کا اصول بھی مقرر تھا۔البتہ دو چیزوں کے متعلق میں نے استثناء رکھی تھی۔ایک حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے تبرکات اور دوسرے نایاب تبلیغی یا علمی کتا ہیں اور بعد میں اس میں ایک تیسری چیز کا بھی اضافہ کر دیا گیا۔یعنی ایسی اشیاء جو کسی شخص کی روزی کا ذریعہ ہوں۔مثلاً درزی کے لئے سینے کی مشین یا بڑھئی کے لئے اس کے اوزار وغیرہ۔یہ اصول امیر وغریب سب پر یکساں چسپاں ہوتا تھا۔گو ظا ہر ہے کہ نسبتی لحاظ سے اس اصول سے غرباء کو ہی زیادہ فائدہ پہنچتا تھا بلکہ غرباء کے متعلق تو میری یہاں تک ہدایت تھی کہ صرف صدر صاحبان کی سفارش پر ہی معاملہ نہ چھوڑا جائے بلکہ میرے دفتر کے مرکزی کا رکن خود جستجو کر کے یتامی اور بیوگان اور ایسے مساکین کو تلاش کر کے میرے نوٹس میں لائیں ، جن کا حق ان کی غربت اور بے بسی کے سوا اور کوئی نہ ہو۔چنانچہ مجھے یاد ہے کہ ایک دفعہ میری اس ہدایت کی وجہ سے مجھے ملک غلام فرید صاحب نے رات کے دو بجے دار الفضل سے فون کیا کہ میں نے محلہ دار البرکات میں ایک ایسی بے کس اور بے بس بیوہ عورت تلاش کی ہے جس کے ٹکٹ کے لئے ابھی تک کسی نے سفارش نہیں کی۔میں نے فورا ہدایت دی کہ اسے اس کے ضروری سامان کے ساتھ دوسرے دن کی کنوائے میں بھجوا دیا جائے۔الغرض جب تک میں قادیان میں رہا۔میں نے بلا امتیاز غریب و امیر سب کے واسطے ایک جیسا اصول رکھا۔اور عموما صدر صاحبان کی تصدیق پر فیصلہ کرتا تھا اور سامان کے متعلق بھی سب کے لئے ایک جیسا اصول تھا۔گو یہ علیحدہ بات ہے کہ بعض بے اصول لوگ چوری یا سینہ زوری کے ذریعہ زیادہ فائدہ اٹھا لیتے ہوں مگر یہ نا گوار رخنے جن کی تعداد بہر حال کم ہوتی ہے ، ہر انتظام میں ہو جاتے ہیں اور ہنگامی حالات میں تو لازماً ہوتے ہیں مگر ان زبر دستی کی استثناؤں کی وجہ سے سارے نظام پر اعتراض کرنا درست نہیں ہوتا۔حقیقت یہی ہے کہ پیش آمدہ حالات کے ماتحت جو کچھ بھی کیا گیا وہ حالات اور موقع کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے بالکل درست بلکہ ضروری تھا اور یہ سب کچھ نیک نیتی کے ساتھ اپنے آپ کو دن رات