مضامین بشیر (جلد 2) — Page 98
مضامین بشیر ۹۸ (۲) باونڈری کمیشن کے لئے مسلمانوں کی طرف سے اس تیاری کی بھی ضرورت ہے کہ ایسے دلائل جمع کئے جائیں۔جن سے ثابت ہو کہ بجلی کے جو پاور سٹیشن یا نہروں کے جو ہیڈ مغربی پنجاب کے حصوں کو نفع پہنچا رہے ہیں۔اور دراصل انہی کی غرض سے بنے ہیں، وہ لازماً مغربی پنجاب کے ساتھ رہنے چاہئیں۔کیونکہ ان کی حیثیت کسی طرح بھی مقامی نہیں ہے۔بلکہ ان وسیع علاقوں کے ساتھ لازم وملزوم ہے جن کو وہ فائدہ پہنچا ر ہے۔ہیں پس کوئی وجہ نہیں کہ انہیں مغربی پنجاب سے جدا کیا جائے۔(۳) اسی طرح جو دریا مغربی اور مشرقی پنجاب کے درمیان حد فاصل بنیں گے۔یا ایک حکومت کے علاقے میں سے نکل کر دوسری حکومت کے علاقے میں داخل ہوں گے ، ان کے متعلق بھی باونڈری کمیشن کے ذریعہ یہ فیصلہ کرانا ہو گا کہ ایسے دریاؤں کا انتظام کس علاقے کے ساتھ وابستہ رہنا چاہئے۔یا درکھنا چاہئے کہ دریاؤں کا کنٹرول قوموں کی ترقی پر بھاری اثر رکھتا ہے۔(۴) پھر بعض ریلوے لائنوں اور بڑی سڑکوں کا سوال بھی باونڈری کمیشن کے سامنے آئے گا کہ وہ مغربی اور مشرقی پنجاب میں سے کس کے حصہ میں ڈالی جائیں۔یا ان کے متعلق دونوں ملکوں میں کس قسم کا سمجھوتہ ہونا ضروی ہے یہ سارے کام اور اسی قسم کے اور بہت سے کام جو باونڈری کمیشن کے سامنے آئیں گے اور جس کا معین علم کمیشن کے حلقہ کا ر کا اعلان ہونے پر حاصل ہو گا۔بہت بھاری تیاری چاہتے ہیں اور ضروری ہے کہ ابھی سے ( کیونکہ اس کے لئے وقت بہت تنگ ہے ) لیگ کی مرکزی کمیٹی کی امداد کے لئے ضلع امرتسر کی تحصیل اجنالہ اور کمشنری جالندہر کے ہر ضلع اور ہر تحصیل اور ضلع گوڑ گاؤں کی تحصیل فیروز پور جھر کا۔اور تحصیل نوح میں سمجھدار مسلمانوں کی کمیٹیاں بن جائیں۔جو مردم شماری کے ضروری اعداد و شمار تیار کرائیں۔اور پھر بڑی احتیاط کے ساتھ ان اعداد و شمار کی وضاحت کے لئے مناسب نقشے بنائے جائیں۔اور اس سارے ریکارڈ پر مسلمان اس طرح حاوی ہو جائیں کہ ہوشیار وکیلوں کی طرح باونڈری کمیشن کے سامنے مسکت صورت میں اپنا کیس پیش کر سکیں۔اس بات کو بھی مدنظر رکھا جائے کہ اگر کسی طرح ضلع گوڑ گاؤں کی تحصیل نوح اور تحصیل فیروز پور جھر کا کا تعلق دہلی سے قائم کر کے ایک مسلم اکثریت والا علاقہ بن سکے تو نہایت مفید ہو سکتا ہے اور اس کے لئے ضروری نہیں کہ تحصیلوں کی حدود کو قائم رکھا جائے۔اسی طرح ممکن ہے کہ اجنالہ تحصیل کی طرف سے ایک ملتا جلتا مسلم اکثریت کا علاقہ امرتسر تک پہنچایا جا سکے اور یہ بھی ایک بہت بڑی کامیابی ہو گی۔جو کم از کم با ہمی سمجھوتہ کے لئے ایک عمدہ دروازہ کھول دے گی۔اسی طرح بجلی کے پاورسٹیشنوں اور نہروں کے ہیڈوں کے متعلق بھی یہ اعداد و شمار مہیا کرنے