مضامین بشیر (جلد 2) — Page 1053
۱۰۵۳ مضامین بشیر بنقد سودا ہوتا ہے۔ادب اور تواضع کا یہ عالم تھا کہ ایک دفعہ جب ہمارا چھوٹا بھائی مبارک احمد بیمار تھا ( اور اسی بیماری میں وہ فوت ہو گیا ) اور اس کی طبیعت زیادہ خراب ہو گئی تو غالبا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے میرے ہاتھ ہی حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کو کہلا بھیجا۔اس وقت مبارک احمد کی چار پائی دارا مسیح کے صحن میں بچھی ہوئی تھی اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام اسی چار پائی پر تشریف رکھتے تھے۔حضرت خلیفہ اوّل تشریف لائے۔مبارک احمد کو دیکھا اور پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ بات کرنے کے لئے ایک سیکنڈ کی جھجھک اور تامل کے بغیر چار پائی کے ساتھ صحن میں ہی نگی زمین یعنی فرش خاک پر بیٹھ گئے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے شفقت سے فرمایا۔مولوی صاحب چار پائی پر بیٹھیں۔اس وقت بس یہی ایک چار پائی تھی جس پر مبارک مرحوم لیٹا ہوا تھا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام بیٹھے تھے۔حضرت خلیفہ اول سرک کر چار پائی کے قریب ہو گئے اور ایک ہاتھ چارپائی کے ایک کنارے پر رکھ کر بدستور فرش پر بیٹھے بیٹھے عرض کیا۔حضرت میں ٹھیک بیٹھا ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے پھر محبت کے ساتھ فرمایا اور اس دفعہ غالباً حضرت خلیفہ اول کی طرف اپنا ہاتھ بڑھا کر فرمایا۔مولوی صاحب یہاں میرے ساتھ چار پائی پر بیٹھیں۔حضرت خلیفہ اول نا چا راٹھے اور چار پائی کے ایک کنارے پر اس طرح جھک کر بیٹھ گئے کہ بس شاید چار پائی کے ساتھ آپ کا جسم چھوتا ہی ہو گا۔یہ نظارہ میری آنکھوں دیکھے کا ہے اور ترتالیس سال گزر جانے کے باوجود میرا دل ابھی تک حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اس بے نظیر شفقت اور حضرت خلیفہ اول کے اس بے نظیر ادب و تواضع سے اس درجہ متاثر ہے کہ گویا یہ کل کا واقعہ ہے اور دراصل یہ ادب اور تو اضع ہی حقیقی تصوف کی جان ہے۔حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کے انہی اوصاف حمیدہ اور کمالات علمی اور روحانی کا یہ نتیجہ تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام آپ کی بے حد قدر فرماتے تھے اور آپ کے ساتھ انتہا درجہ محبت رکھتے تھے۔ایک دفعہ حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ اور حضرت مولوی عبد الکریم صاحب مرحوم کی بیویوں میں یہ دلچسپ اختلاف ہو گیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ان میں سے کس کے خاوند کے ساتھ زیادہ محبت ہے۔آخر ہماری والدہ صاحبہ حضرت ام المؤمنین اطال اللہ ظلہا تک معاملہ پہنچا اور ان کی رائے پوچھی گئی۔حضرت اماں جان نے فرمایا کہ میرے علم میں تو بڑے مولوی صاحب ( یعنی حضرت خلیفہ اول) کے ساتھ زیادہ محبت ہے مگر ابھی اس کا امتحان کئے لیتے ہیں۔چنانچہ انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے عرض کیا کہ آپ کے سب سے زیادہ پیارے رفیق۔۔۔۔ابھی وہ اس فقرہ کو پورا نہیں کرنے پائی تھیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جلدی سے فرمایا۔کیوں -