مضامین بشیر (جلد 2) — Page 1031
۱۰۳۱ مضامین بشیر حکومت پر تبا ہی آئی تو پھر بھی دس کروڑ مسلمانوں کا ورثہ اپنے پیچھے چھوڑ گئی جو آج پاکستان کی گدی سنبھالے بیٹھے ہیں مگر جب اسلام سپین سے نکلا تو گویا اس کی جڑوں اور شاخوں اور پتوں اور پھولوں اور پھلوں سب پر تبا ہی آگئی اور اس تباہی کا سب سے زیادہ دردناک پہلو یہ ہے کہ ابھی تک یہ ہولناک آبادی بے انتقام پڑی ہے۔بغداد نے اپنا انتقام لے لیا اور لے رہا ہے۔ہندوستان نے بھی اپنا انتقام اولاً مسلمان آبادی کی صورت میں اور پھر پاکستان کی صورت میں لے کر کچھ اشک شوئی کر لی ہے مگر سپین ، ہمارا سپین ، اسلامی حکومت کی آنکھ کا تارا سپین ، بے انتقام پڑا ہے۔سپین کی زمین ابھی تک اسلام کے انتقام کی پیاسی ہے۔کیا خدائے اسلام جس نے اپنی کتاب میں اپنا نام خود ذ وانتقام رکھا ہے۔سپین کو بھول گیا ؟ کیا اس نے سپین کے ان سینکڑوں ہزاروں علماء دین کو فراموش کر دیا جن کے نام اب تک علم و حکمت کے آسمان پر ستارے بن کر چمک رہے ہیں اور جن کی ہڈیاں پین کے شہروں میں پیوند خاک ہیں؟ کیا ان لاکھوں مسلمان شہیدوں کے خون کی چھینٹیں ابھی تک عرش خدا وندی تک اڑ کر نہیں پہنچیں جنہوں نے اپنے خون کے دھارے سے پین کی زمین میں اسلام کا رستہ کھولا اور پھر آٹھ سو سال کی بے مثل حکومت کے بعد خون کے دریا میں نہاتے ہوئے پیچھے ہٹ آئے ؟ یہ کبھی ہو نہیں سکتا۔یہ ہمارے خدائے منتقم کی صفات ازلی کے خلاف ہے۔یہ الاسلام يـعـلـو ولا یعلی کا ایسا صریح بطلان ہے جسے خدائے اسلام کی غیرت کبھی برداشت نہیں کر سکتی تو پھر کیا وجہ ہے کہ خدا اب تک سپین کے معاملہ میں خاموش ہے؟ اس کی وجہ :- مجھ سے سنو جو گوشِ نصیحت ہوش ہے“ اسلام کا خدا، ہمارا خدا قرآن شریف میں فرماتا ہے کہ جنگ کے میدان میں کوئی سچی اسلامی فوج دشمن کے سامنے سے پیچھے نہیں ہٹ سکتی سوائے ان دو معین صورتوں کے کہ : مُتَحَرْفًا لِقِتَالٍ أَوْ مُتَحَيْرًا إِلى فِئَةٍ ۱۵۳ و یعنی ایک اسلامی فوج یا تو جنگی تدبیر کے طور پر میدان بدلنے کی غرض سے پیچھے ہٹ سکتی ہے اور یا کسی اور اسلامی فوج اور کسی اور مسلمان جرنیل کے ساتھ مل کر مقابلہ کرنے کی نیت سے پیچھے آسکتی ہے۔اس کے سوا کوئی تیسرا رستہ نہیں۔“ اب بات صاف ہے کہ بغداد اور بلغاریہ اور ہندوستان میں تو خدائے اسلام نے مُتَحَرِّفا تقبال کے نسخہ پر عمل کیا اور ایک میدان سے فوجیں ہٹا کر دوسرے میدان میں ڈال دیں۔اس طرح اگر اسلامی عظمت کا ایک نشان مٹا تو دوسرا نشان قائم رہا لیکن سپین کے معاملہ میں خدائے ذوالجلال و ذوالجلال مُتَحَيَّزًا إلى فِئَةٍ کے نسخہ پر عمل کرنا چاہتا ہے۔یعنی سپین کے متعلق ایک نئے اسلامی