مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 1010 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 1010

مضامین بشیر 1۔1۔مناسب حد بندیوں اور شرائط کے ساتھ جائز قرار دے دیا جاتا ہے لیکن اگر کسی چیز کے نقصان کا پہلو اس کے فوائد کے پہلو سے زیادہ بھاری ہو جیسا کہ خدا تعالیٰ نے شراب اور جوائے کے تعلق میں صراحۃ بیان فرمایا ہے تو اسے ناجائز شمار کیا جاتا ہے۔یہ وہ زریں اصول ہے جسے قرآن شریف نے آج سے چودہ سو سال پہلے اختیار کیا اور آج دنیا بھر کی مہذب حکومتیں اپنی اپنی سمجھ کے مطابق اس اصول پر عمل پیرا ہیں۔سمجھ کی غلطی کی وجہ سے یا اخلاقی اور روحانی پہلوؤں کی اہمیت نہ جاننے کے باعث ٹھیک رستے سے بھٹک جانا اور بات ہے لیکن جہاں تک خالص اصول کا تعلق ہے غالباً آج دنیا کی کوئی مہذب قوم اور دنیا کا کوئی مہذب ملک اس بات سے انکار نہیں کرتا کہ کسی قانون کو جاری کرتے ہوئے محض فائدہ کے پہلو کو دیکھنا ہی کافی نہیں ہوتا بلکہ فائدہ اور نقصان دونوں پہلوؤں کو دیکھنا اور پھر ان متقابل پہلوؤں کا باہمی موازنہ کرنے کے بعد فیصلہ کرنا ضروری ہوتا ہے اور یہ وہی اصول ہے جسے قرآن شریف نے آج سے چودہ سو سال قبل شراب اور جوئے کو حرام قرار دیتے ہوئے نہائت واضح الفاظ میں پیش کیا ہے۔اس طرح سود کے متعلق قرآن شریف فرماتا ہے کہ : ۱۴۴ الَّذِينَ يَأْكُلُونَ الرّبوالَا يَقُومُونَ إِلَّا كَمَا يَقُوْمُ الَّذِي يَتَخَبَّطُهُ الشَّيْطَنُ مِنَ الْمَيْس ذلِكَ بِأَنَّهُمْ قَالُوا إِنَّمَا البيع مثل الرَّبُوا وَأَحَلَّ اللهُ البَيْعَ وَحَرَّمَ الرَّبُوا فَمَنْ جَاءَهُ مَوْعِظَةٌ مِنْ رَّيْهِ فَانتَهى فَلَهُ مَا سَلَفَ وَاَمْرُةٌ إلى الله وَمَنْ عَادَ فَأُولَبِكَ أَصْحَبُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَلِدُونَ ) يَمْحَقُ اللَّهُ الرَّبُوا وَيُرْ لى الصَّدَقْتِ وَاللهُ لَا يُحِبُّ كُلَّ كَفَّارٍ اَثِيْهِ 10 د یعنی وہ لوگ جو سود کھاتے ہیں وہ بظاہر اپنے پاؤں پر کھڑے تو ہو جاتے ہیں مگر ان کا کھڑا ہونا ایسا ہی ہوتا ہے کہ جیسے شیطان نے انہیں سہارا دے کر کھڑا کر دیا ہو مگر اس مس شیطان کی وجہ سے ان کی قلبی طاقتیں مختل ہو جاتی ہیں اور اور ان کے لئے اذیتوں اور فتنوں کا دروازہ کھل جاتا ہے۔۔۔۔پس اگر اب بھی کوئی شخص سود سے باز نہیں آئے گا تو ایسے لوگ سن لیں کہ وہ آگ میں جلیں گے ( یعنی اس دنیا میں مادی ذہنیت کی جلن اور جنگوں وغیرہ کی آگ اور آخرت میں عذاب کی آگ اور اسی آگ میں ہمیشہ جلتے چلے جائیں گے۔سن لو کہ سود کو خدا مٹانا چاہتا اور صدقات کو بڑھانا چاہتا ہے اور خدا تعالیٰ اپنے حکیمانہ حکموں کے ناشکر گزار بندوں اور گنہگا رلوگوں کو ہرگز پسند نہیں کرتا۔