مضامین بشیر (جلد 2) — Page 941
۹۴۱ مضامین بشیر ہمارے آقاصلی اللہ علیہ وسلم نے گوشت کے نا واجب ضیاع کو بچایا ہے۔یہ تدبیر قربانی کے گوشت کو ذخیرہ کرنے سے تعلق رکھتی ہے۔عربوں میں یہ عام طریق تھا جسے اسلام نے برقرار رکھا کہ اگر کسی موقعہ پر زیادہ جانور ذبح ہونے کے نتیجہ میں گوشت کی افراط ہو جاتی تھی تو وہ گوشت کو نمک وغیرہ لگا کر سکھا لیتے تھے اور پھر یہ گوشت ایک لمبے عرصہ تک خراب ہونے کے بغیر قابل استعمال رہتا تھا۔چنانچہ اسلام نے قربانی کے گوشت کے متعلق بھی اس قسم کے ذخیرہ کرنے کی اجازت دی ہے بلکہ اس کی تحریک فرمائی ہے۔اس طریق کو عربی زبان میں تشریق کہتے ہیں۔یعنی گوشت کے ٹکڑے کاٹ کر اسے مصالحہ وغیرہ لگانے کے بعد خشک کر لینا تا کہ وہ دیر تک محفوظ رہ سکے اور اس لئے عید الاضحیٰ کے بعد کے ایام کو ایام تشریق (یعنی گوشت کو خشک کر کے ذخیرہ کرنے کے دن) کہتے ہیں چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قربانی کے گوشت کے متعلق فرماتے ہیں کہ : كلو واطعموا وادخروال ۸۵ د یعنی اے مسلما نو عید الاضحی کی قربانیوں کا گوشت خود بھی کھاؤ اور دوسروں کو بھی کھلاؤ اور فالتو گوشت کو ذخیرہ بھی کرو“۔اس حکیما نہ تعلیم کی روشنی میں ہمارے حنفی آئمہ کا فتویٰ ہے کہ : يندب اب ياكل من لحم اضحيته و يدخرو يتصدق والا فضل ان يتصدق ما لثلث و يدخرا الثلث و يتخذ الثلث لا قربائه واصدقائه_ یعنی قربانی کے متعلق یہ بات پسندیدہ ہے کہ قربانی کرنے والا اپنی قربانی کے گوشت میں سے خود بھی کھائے اور اس میں سے آئندہ کے لئے ذخیرہ بھی کرے اور غربیوں میں تقسیم بھی کرے بلکہ افضل صورت یہ ہے کہ ایک تہائی گوشت آئندہ کے لئے سکھا کر ذخیرہ کر لیا جائے اور ایک تہائی گوشت اپنے عزیزوں اور دوستوں کے لئے رکھا جائے“ اس مدبرانہ تعلیم کے ماتحت گوشت کے ضائع جانے کا خطرہ (اگر کوئی ہو بھی تو ) بالکل باطل ہو جاتا ہے اور گوعربوں میں ابتدائی طریق پر گوشت کو خشک کرنے کا رواج تھا اور یہ طریق اب بھی اختیار کیا جا سکتا ہے لیکن موجودہ زمانہ میں کولڈ سیٹ اور مشین کے ذریعہ گوشت خشک کرنے کے لئے سائنٹفک طریقے بھی ایجاد ہو گئے ہیں جسے انگریزی میں ڈی ہائیڈ ریشن (Dehydration) کہتے ہیں اور ان طریقوں کے ذریعہ فالتو گوشت ( اگر کوئی ہو ) بڑی آسانی کے ساتھ سکھا کر نہایت عمدہ