مضامین بشیر (جلد 2) — Page 942
مضامین بشیر ۹۴۲ صورت میں ذخیرہ کیا جا سکتا ہے اور اس طرح قربانی کی اصل غرض و غایت بھی قائم رہتی ہے اور گوشت کے ضائع جانے کا اندیشہ بھی باقی نہیں رہتا بلکہ مسلمانوں کے لئے ایک زائد صنعت بھی نکل آتی ہے جس سے وہ تجارتی رنگ میں بھی کافی فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔الغرض اسلام نے ہر رنگ میں اپنی تعلیم کو کامل و مکمل صورت دی ہے اور حق یہ ہے کہ جب اس تعلیم پر غور کیا جائے تو ہر سچے مسلمان کا دل آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کے لئے شکر و امتنان کے جذبات سے لبریز ہو جاتا اور اس کی زبان آپ کے درود کی دعا سے گونجنے لگتی ہے کہ کس طرح اس حبیب خدا افخر انبیاء نے آج سے چودہ سو سال قبل ہمیں وہ تعلیم دی جس میں فطرتِ انسانی کے ہر پہلو کو زندہ رکھنے اور نسل انسانی کی ہر ضرورت کو مہیا کرنے کا بہترین سامان موجود ہے۔اس عظیم الشان احسان کا بدلہ ہمارے پاس اس درویشانہ دعا کے سوا اور کیا ہے کہ الھم صل على محمد و علیٰ ال محمد و بارک وسلم ( مطبوعه الفضل ۲۰ / اگست ۱۹۵۰ء)