مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 937 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 937

۹۳۷ مضامین بشیر مقرر فرمائی ہیں۔مثلاً یہ کہ وہ اس اس عمر سے کم عمر کا نہ ہو اور یہ کہ دودھ دینے والا جانور ذبح نہ کیا ئے۔چنانچہ جب ایک دفعہ ایک صحابی نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے واسطے ایک دودھ دینے والی بکری ذبح کرنی چاہی تو آپ نے فرمایا ایساک و الحلوب یعنی دیکھنا دودھ والا جانور ذبح نہ کرنا اسی طرح شریعت نے گائے اور اونٹ کی قربانی میں سات آدمیوں کی شرکت جائز رکھی ہے تا کہ جانوروں کا بلا وجہ ضیاع نہ ہو۔پس جب شریعت نے خود کمال حکمت سے مناسب شرطیں اور ضروری حد بندیاں لگا رکھی ہیں اور ان حد بندیوں کی وجہ سے جانوروں کا بے دریغ اتلاف ممکن نہیں رہتا تو خواہ مخواہ شریعت کے ایک حکیمانہ حکم میں جو فردی اور قومی تربیت کے لئے ضروری ہے روک پیدا کر کے بے دینی کا داغ مول لینا کہاں کی عقلمندی ہے؟ پھر طبی سائنس کی رو سے یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ایک نر جانور بہت سی مادہ جانوروں میں نسل کشی کا سلسلہ قائم رکھنے کے لئے کافی ہوتا ہے۔پس اگر دودھ والے مادہ جانور محفوظ رہیں اور نر جانوروں میں اتنی کمی نہ آئے جو نسل کی ترقی کو مخدوش کر دے تو حقیقتہ کوئی خطرہ باقی نہیں رہتا اور زمیندارہ کام میں استعمال ہونے والے جانوروں کو تو ویسے بھی کوئی شخص ذبح نہیں کرتا اور نہ زمیندار اس گھاٹے کے سودے کے لئے تیار ہوتے ہیں۔پس جس جہت سے بھی دیکھا جائے یہ خطرہ ایک خیالی خطرہ سے زیادہ حقیقت نہیں رکھتا۔بایں ہمہ اگر حکومت ضروری خیال کرے تو اسے یہ انتظامی حق حاصل ہے کہ قربانیوں کے معاملہ میں دخل دینے کے بغیر بعض خاص قسم کے کارآمد جانوروں کے ذبح کرنے کوملکی مفاد کے ماتحت روک دے۔اسی طرح پاکستان کی حکومت دوسرے ملکوں کی بیدار مغز حکومتوں کی طرح جانوروں کی نسلی افزائش کے واسطے بھی کئی قسم کی مفید تدابیر ختیار کر سکتی ہے۔یہ ایک حقیقت ہے کہ یورپ اور امریکہ کے عیسائی ممالک میں ایک طرف سرد آب و ہوا اور دوسری طرف افراد کے نسبتی تمول کی وجہ سے بہت زیادہ جانور ذبح کئے جاتے اور بہت زیادہ گوشت کھایا جاتا ہے۔حتی کہ اگر فی کس گوشت کی نسبت نکالی جائے تو یہ خیال کرنا بعید از قیاس نہ ہوگا کہ یورپ و امریکہ کا آدمی پاکستان کے آدمی کی نسبت غالباً تین چار گنا زیادہ گوشت کھاتا ہے لیکن باوجود اس کے وہاں جانوروں کے قحط کا کوئی خاص خطرہ محسوس نہیں کیا گیا جس کی وجہ یہی ہے کہ وہاں ایک طرف جانوروں کو موٹا کرنے اور دوسری طرف ان کی نسل کو بڑھانے اور تیسری طرف ان کی بیماریوں کو کم کرنے کی خاص تدابیر پر عمل کیا جاتا ہے لیکن اس کے مقابل پر یہاں اکثر لوگوں کو شریعت کے احکام میں دخل دینے کے سوا کوئی تدبیر نہیں سوجھتی اور بدانتظامی کے نقص کو دور کرنے کا علاج صرف یہی نظر آتا ہے کہ شرعی قربانی کو روک کر جانوروں کو محفوظ کر لیا جائے۔!! یہ ایک بہت افسوس کا مقام ہے جس کی طرف ارباب حل وعقد کو