مضامین بشیر (جلد 2) — Page 938
مضامین بشیر ۹۳۸ فوری توجہ دینی چاہیئے ورنہ بے دینی بھی پیدا ہو گی اور غلط علاج کی وجہ سے اقتصادی نظام بھی تباہ ہو جائے گا۔خلاصہ کلام یہ کہ: (۱) عید الاضحی کا نام خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا رکھا ہوا ہے جو ا سے اسلام کی دوسری عید یعنی عید الفطر سے ممتاز کرتا ہے اور اس کا یہ نام ہی ( جو بد قسمتی سے آج کل غلطی سے عید الضحی مشہور ہو گیا ہے ) اس عید کی غرض و غایت ثابت کرنے کے لئے کافی ہے کیونکہ عید الاضحیٰ کے معنی قربانیوں کی عید کے ہیں اور یہ عید حضرت اسماعیل کے جسم اور روح کی قربانی کی یاد میں مقرر کی گئی ہے جس کے نتیجہ میں حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جیسا کامل و مکمل وجود پیدا ہوا۔(۲) قرآن شریف نے فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ کا حکم نازل کر کے اور اس کے ساتھ فَانُ حْصِرْتُمْ فَمَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْي کا ارشاد شامل کر کے اسلام میں قربانیوں کی بنیا د قائم فرمائی ہے۔Ar (۳) حدیث میں اس بات کا واضح اور قطعی ثبوت ملتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عیدالاضحی کا حکم نازل ہونے کے بعد ہمیشہ عید کے موقعہ پر قربانی فرمائی اور اس کی تاکید کی اور اسے بڑے ثواب کا موجب ٹھہرایا بلکہ یہاں تک فرمایا کہ جو مسلمان قربانی کی طاقت رکھتے ہوئے قربانی نہیں کرتا خواہ سارے گھر کی طرف سے ایک ہی قربانی ہو اس کا کیا کام ہے کہ ہماری عیدگاہ میں آکر نماز میں شامل ہو؟ (۴) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کے ماتحت مستطیع صحابہ نے بھی ہمیشہ عید الاضحیٰ کے موقعہ پر قربانی کی اور اسے ایک مقدس سنت اور موجب ثواب نیکی شمار کیا۔(۵) عید الاضحی کی قربانیوں کی مشروعیت پر تمام مسلمانوں کا اجماع ہے۔فقہ کے اماموں میں سے حضرت امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ علیہ اور ان کے دونو ساتھی عید الاضحیٰ کی قربانی کو طاقت رکھنے والے مسلمانوں کے لئے واجب قرار دیتے تھے اور قریباً یہی مذہب امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کا ہے جو اسے سنت واجبہ شمار کرتے ہیں اور باقی دو اماموں نے اسے سنت موکدہ قرار دیا ہے۔گو بہر حال سب کے نزدیک طاقت اور قدرت کا ہونا ضروری شرط ہے۔(۶) یہ خیال کہ کیوں نہ قربانی کی جگہ نقد امداد کا انتظام جاری کر دیا جائے ایک باطل اور ملحدانبخیال ہے۔کیونکہ (الف) اس سے شریعت میں جو خدا اور رسول کی قائم کردہ ہے نا جائز دخل اندازی کا رنگ پیدا ہوتا ہے اور ( ب ) اس سے وہ حکیمانہ غرض و غایت فوت ہو جاتی ہے جو قربانیوں کے نظام میں ملحوظ رکھی گئی