مضامین بشیر (جلد 2) — Page 936
مضامین بشیر ۹۳۶ جواب دینا ضروری ہے اور وہ یہ ہے کہ آج کل عید الاضحیٰ کی قربانی کے خلاف آواز اٹھانے والوں کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ پاکستان بننے کے بعد ملک میں گوشت کھانے والوں کی کثرت اور گوشت کے جانوروں کی نسبتاً قلت ہو گئی ہے۔اس لئے ملک کے اقتصادی نظام کے ماتحت جانوروں کو بے دریغ ذبح کرنے سے بچانا ضروری ہے ورنہ خطرہ ہے کہ کل کو نہ صرف گوشت کا قحط بلکہ زمیندارہ استعمال کے جانوروں کی قلت بھی ملک کی خوراک کے سوال کو نازک صورت نہ دے دے۔یہ سوال بظا ہرا ہم اور قابل غور نظر آتا ہے کیونکہ اس میں شبہ نہیں کہ ایک تو ملکی تقسیم کے فسادات کے دوران میں بعض جانور ضائع گئے اور دوسرے مغربی پاکستان میں خالص مسلمان آبادی کے بڑھ جانے سے گوشت کا خرچ بھی لازماً پہلے کی نسبت زیادہ ہو گیا ہے۔اس لئے ایک حد تک جانوروں کی قلت کا اندیشہ سمجھا جا سکتا ہے لیکن اگر غور کیا جائے تو یہ اندیشہ اتنا حقیقی نہیں کہ قطع نظر دینی مسئلہ کے اس کی وجہ سے قربانیوں کو روکنے کا خیال پیدا ہو کیونکہ اول تو اگر غور سے دیکھا جائے تو قربانی کرنے والے لوگ غالبا ساری آبادی کے لحاظ سے ایک فی صدی سے بھی کم ہوتے ہیں۔مثلاً لا ہور جو پاکستان کا سب سے بڑا شہر ہے اور غالبا وہ ہے بھی خاصہ متمول شہر اس کی آبادی پندرہ لاکھ بتائی جاتی ہے۔اب اگر اس میں اس کے تمول کے لحاظ سے دو فی صدی قربانی ہو تو یہ تمیں ہزار جانور بنتا ہے مگر میں نہیں سمجھتا کہ لاہور میں اتنے جانوروں کی قربانی ہوتی ہو۔تو اگر لاہور کا یہ حال ہے تو یقیناً ملکی اوسط ایک فی صدی سے بھی نیچے رہتی ہوگی کیونکہ دیہات میں عموماً بہت ہی کم قربانی ہوتی ہے اور چھوٹے شہروں میں بھی قربانی کی طاقت رکھنے والا طبقہ یقیناً زیادہ نہیں ہوتا۔اور بعض احادیث میں یہ بھی اشارہ ملتا ہے کہ اگر ایک گھر میں ایک سے زیادہ قربانی کرنے والے افراد موجود ہوں تو با وجود مستطیع افرد کی تعداد زیادہ ہونے کے سارے گھر کی طرف سے صرف ایک قربانی کافی ہو جاتی ہے ( نسائی ) اور اکثر فقہاء نے سنة عين کے الفاظ میں ایک گھر کو بلکہ بعض نے تو ایک خاندان کو ایک ہی یونٹ قرار دیا ہے کتاب الفقه علی المذاہب الا ربعہ ) اس کے علاوہ یہ بھی ظاہر ہے کہ قربانی کے ایام میں جانوروں کو عام تجارتی رنگ میں ذبح کرنے کا سلسلہ رک جاتا ہے اور گوشت کی دوکانیں عملاً بند ہو جاتی ہیں کیونکہ گوشت کھانے والا طبقہ یا تو خود قربانی کر کے اپنے لئے گوشت مہیا کر لیتا ہے اور یا اسے اس کے عزیزوں اور دوستوں اور ہمسائیوں کی طرف سے گوشت کا ہدیہ پہنچ جاتا ہے۔پس اگر ایک طرف عید کے ایام میں قربانی زیادہ ہوتی ہے تو دوسری طرف عام جانورں کے ذبیح کا سلسلہ کم بھی ہو جاتا ہے اور اس طرح یہ فرق زیادہ نہیں رہتا۔پھر قربانی کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جانوروں کے انتخاب کے واسطے بھی کچھ شرطیں