مضامین بشیر (جلد 2) — Page 924
مضامین بشیر ۹۲۴ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بے شک قربانی کی طاقت نہ رکھنے والے غیر مستطیع لوگوں کے لئے قربانی واجب نہ سہی مگر کیا وہ ایسی طاقت رکھنے والے مستطیع لوگوں کے لئے واجب ہے جو غیر حاجی ہوں ؟ اس کے جواب میں اچھی طرح یا درکھنا چاہئیے کہ گو آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم نے فرض ، واجب سنت وغیرہ کی فقہی اصطلاحیں استعمال نہیں کیں مگر صحیح احادیث سے یہ ضرور ثابت ہوتا ہے کہ آنحضرت صلے اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیشہ عید اضحی کے موقعہ پر ہر قربانی کی اور اپنے صحابہ کو بھی اس کی تاکید فرمائی۔چنانچہ حدیث میں آتا ہے کہ عن ابی عمر قال قام رسول الله صلى الله عليه و سلم بالمدينة عشر سنين يضحى ۶۳ د یعنی حضرت عبد اللہ بن عمر روایت کرتے ہیں کہ آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم نے ہجرت کے بعد مدینہ میں دس سال گزارے اور آپ نے ہمیشہ عید اضحی کے موقعہ پر قربانی کی۔“ بلکہ آپ کو عید اضحی کی قربانی کا اس قدر خیال تھا کہ آپ نے وفات سے قبل اپنے داماد اور چچا زاد بھائی حضرت علی رضی اللہ عنہ کو وصیت فرمائی کہ میرے بعد بھی میری طرف سے عید اضحی کے موقعہ پر قربانی کرتے رہنا۔چنانچہ حدیث میں آتا ہے کہ :- عن حنش قال رايت عليا رضى الله عنه يضحي بكبشين فقلت له ماهذا قال ان رسول صلى الله عليه وسلم اوصانی ان اضحی عنه فانا اضحی عنه ۶۴ رض د یعنی حنش روایت کرتے ہیں کہ میں نے حضرت علی کو دیکھا کہ وہ عید اضحی کے موقعہ پر دو دنبے قربان کر رہے تھے۔میں نے ان سے پوچھا کہ یہ دو دنبوں کی قربانی کیسی ہے ؟ حضرت علی نے فرمایا کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وصیت فرمائی تھی کہ میں آپ کی طرف سے ( آپ کی وفات کے بعد ) قربانی کرتا رہوں۔سو میں آپ کی طرف سے قربانی کرتا ہوں اور عید اضحی کے دن قربانی کرنا آپ کا ذاتی فعل ہی نہیں تھا بلکہ آپ اپنے صحابہ کو بھی اس کی تحریک فرماتے تھے۔چنانچہ حدیث میں آتا ہے کہ :- عن البراء قال خطبنا النبي صلى الله عليه وسلم يوم النحر فقال ان اول ما نبداء به في يومنا هذا ان نصلى ثم نرجع فنحر فمن