مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 925 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 925

۹۲۵ مضامین بشیر فعل ذالک فقد اصاب سنتنا ย ۲۵ یعنی حضرت براء روایت کرتے ہیں کہ آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم نے ہمیں عید اضحی کے دن خطبہ دیا اور اس میں فرمایا کہ اس دن پہلا کام یہ کرنا چاہئیے کہ انسان عید کی نماز ادا کرے اور پھر اس کے بعد قربانی دے۔سو جس نے ایسا کیا۔اس نے ہماری سنت کو پالیا۔“ اوپر کی حدیث میں ایک طرح سے سنت کا لفظ بھی آگیا ہے اور چونکہ یہ اصطلاحی طور پر استعمال نہیں ہوا۔اسی لئے اس سے وجوب کا پہلو بھی مراد ہو سکتا ہے اور ایک دوسرے موقعہ پر آپ نے فرمایا کہ: YY من وجد سعة ولم يضح فلا يقربن مصلانا۔در یعنی جس شخص کو مالی لحاظ سے توفیق ہوا اور پھر بھی وہ عید اضحی کے موقعہ پر قربانی نہ کرے۔اس کا کیا کام ہے کہ ہماری عیدگاہ میں آکر نماز میں شامل ہو۔؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ ارشاد جس تاکید کا حامل ہے۔وہ کسی تشریح کی محتاج نہیں اور جیسا کہ آنحضرت صلعم کے ہر دوسرے ارشاد کو مقبولیت کی برکت حاصل ہوئی۔اسی طرح اس ارشاد کو بھی صحابہ کرام نے اپنا حزرجان بنایا۔چنانچہ حدیث میں لکھا ہے کہ :- عن جبلة ابن سيحم ان رجلاً سال ابن عمر عن الاضحية اواجبة هي فقال ضحى رسول الله صلى الله عليه وسلم والمسلمون فاعادها عليه فقال اتعقل ضحى رسول الله صلى الله عليه وسلم والمسلمون - ย یعنی جبلہ ابن سیم روایت کرتے ہیں کہ ایک دفعہ ایک شخص نے حضرت عبد اللہ بن عمر سے دریافت کیا کہ کیا عید اضحی کی قربانی واجب ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلعم خود بھی قربانی کرتے تھے اور آپ کی اتباع میں صحابہ ” بھی کرتے تھے۔اس شخص نے اپنے سوال کو پھر دہرایا اور کہا کیا قربانی واجب ہے ؟ حضرت عبد اللہ بن عمرؓ نے فرمایا۔کیا تم میری بات سمجھ نہیں سکتے۔میں کہتا ہوں کہ رسول اللہ صلعم خود بھی قربانی کیا کرتے تھے اور آپ کے ساتھ دوسرے مسلمان بھی۔“