مضامین بشیر (جلد 2) — Page 893
۸۹۳ مضامین بشیر نمازوں کو فرض بھی نہیں کیا گیا تا کہ وہ بوجھ کا باعث بھی نہ بن جائیں اور خود بخود خوشی سے پڑھنے کے نتیجہ میں ثواب بھی زیادہ ہو اس لئے ایک حصہ کو فرض قرار دیا گیا اور دوسرے کونفل اور یہ بھی یا درکھنا چاہئیے کہ اشراق یا چاشت کی نماز کوئی جدا گانہ نماز نہیں بلکہ یہی ضحی کی نماز ہے جسے لوگوں نے زیادہ نام دے دیئے ہیں اور بعض انہیں غلطی سے الگ الگ سمجھنے لگ گئے ہیں۔بالآخر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی یہ بات بھی یادرکھنے کے قابل ہے کہ ہر مومن مسلمان کو چاہیے کہ وہ حتی الوسع ہر رمضان میں اپنی کسی ایک کمزوری کو دور کرنے اور اس سے تائب ہونے کا عہد کرے تا کہ اس کا رمضان صرف ایک جنرل ٹانک ہی ثابت نہ ہو بلکہ کسی معین بیماری کا علاج بھی مہیا کرے۔ظاہر ہے کہ قریباً ہر انسان میں کوئی نہ کوئی کمزوری ہوتی ہے۔پس ہر انسان اپنے دل میں اپنی کسی کمزوری کو سامنے رکھ کر اس کے متعلق خدا سے عہد کر سکتا ہے کہ میں آئندہ اس بدی کا ارتکاب نہیں کروں گا۔مثلاً (۱) نمازوں میں ستی (۲) روزوں میں ستی (۳) زکوۃ میں ستی (۴) چندوں میں ستی (۵) تبلیغ کی طرف سے بے تو جہی (۶) مرکز کے ساتھ وابستگی میں بے تو جہی۔(۷) احمدیت کے مخصوص احکام میں غفلت (۸) اولا د کو احمدیت اور اسلام کی تعلیم پر قائم کرنے میں غفلت (۹) والدین کی خدمت کرنے میں غفلت (۱۰) بیوی یا خاوند کے ساتھ بدسلوکی (۱۱) ہمسایوں کے ساتھ بدسلوکی (۱۲) گالی گلوچ کی عادت (۱۳) بدنظری کی عادت (۱۴) وعدہ خلافی کا مرض (۱۵) قرض لے کر واپس نہ کرنے کا مرض (۱۶) کاروبار میں بد دیانتی (۱۷) رشوت ستانی (۱۸) بیوی کو بے پردہ کرنے کی طرف میلان (۱۹) سینما کا شوق (۲۰) تمباکونوشی کا چسکہ وغیرہ وغیرہ بیسیوں قسم کی کمزوریاں ہیں جن میں سے کسی ایک کے متعلق انسان اپنے دل میں خدا سے عہد کر کے رمضان میں تائب ہوسکتا ہے اور ایسے شخص کو یہ بے نظیر خوشی بھی حاصل ہوگی کہ میرا یہ رمضان میرے لئے بہر حال روحانی برکت سے خالی نہیں گیا۔کیونکہ وہ معین طور پر جانتا ہو گا کہ میں نے خدا کے فضل سے اس رمضان میں فلاں کمزوری پر غلبہ حاصل کیا تھا۔جماعتی دعاؤں میں (۱) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت مسیح موعود" پر درود (۲) اسلام اور احمد بیت کی ترقی (۳) موجودہ جماعتی امتحان میں جماعت کی سرخروئی (۴) حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کی صحت اور لمبی عمر اور حضور کے کاموں میں برکت (۵) جماعت کے مبلغین اور دیگر کارکنوں کی خدمات کی مقبولیت (۶) درویشان قادیان کے نیک مقاصد کے حصول اور (۸) جب تک قادیان بحال نہیں ہوتا مرکز ربوہ کے استحکام کے لئے دعاؤں کو خاص طور پر مقدم رکھنا چاہیئے۔اور یقیناً جو شخص خدا کے کام کو مقدم رکھتا ہے اسے خدا بھی اپنی توجہ میں مقدم رکھے گا۔لا حول ولا قوة الا بالله العظيم ( مطبوعہ الفضل ۱۸ جولائی ۱۹۵۰ء)