مضامین بشیر (جلد 2) — Page 78
مضامین بشیر ZA کے مقابلہ پر پیسے کو پیش کرنا ایک ادنیٰ ذہنیت کے مظاہرہ کے سوا کچھ نہیں۔چھٹے۔کون کہہ سکتا ہے کہ سکھوں کی جائیداد کی مالیت واقعی زیادہ ہے۔کیونکہ جائیداد کی قیمت عمارتوں کی اینٹوں یا زمین کے ایکڑوں پر مبنی نہیں ہوتی بلکہ بہت سی باتوں کا مجموعی نتیجہ ہوا کرتی ہے۔اور جب تک ان ساری باتوں کا غیر جانبدارانہ جائزہ نہ لیا جائے۔سکھوں کا یہ دعویٰ کہ ہماری جائیدادیں زیادہ ہیں۔ایک خالی دعوی سے زیادہ حقیقت نہیں رکھتا۔خصوصاً جب کہ ابھی تک ایکڑوں کا صحیح قوم وار تناسب بھی گنتی میں نہیں لایا جا سکا۔سکھ صاحبان کا یہ خیال کہ ہندو اور ہم ایک ہیں اور اس لئے ان کے ساتھ مل کر مشرقی پنجاب میں ہماری اکثریت ہو جائے گی پہلے دھو کے سے بھی زیادہ خطرناک دھوکہ ہے۔کیونکہ اس میں ایک ایسے بیچ دار اصول کا واسطہ پڑتا ہے۔جس کا حل نہ ہندو کے پاس ہے اور نہ سکھ کے پاس۔سوال یہ ہے کہ کیا ہندو اور سکھ ایک قوم ہیں ؟ اس سوال کے امکانا دوہی جواب ہو سکتے ہیں۔ایک یہ کہ ہاں وہ ایک قوم ہیں اور دوسرے یہ کہ نہیں بلکہ وہ دو مختلف قومیں ہیں۔جن کا مذہب اور تہذیب و تمدن جدا گانہ ہے۔مگر ان کا آپس میں سیاسی سمجھوتہ ہے۔اب ان دونوں جوابوں کو علیحدہ علیحدہ لے کر دیکھو کہ نتیجہ کیا نکلتا ہے۔اگر سکھ اور ہندو ایک قوم ہیں تو ان کا اس غرض سے پنجاب کو دوحصوں میں بانٹنے کا مطالبہ کہ انہیں اس ذریعہ سے ایک علیحدہ گھر اور وطن میسر آ جاتا ہے۔بالبداہت باطل ہو جائے گا۔کیونکہ جب سکھ اور ہندو ایک ہیں تو ظاہر ہے کہ مستقبل کے ہندوستان میں جتنے بھی صوبے ہوں گے، وہ جس طرح ہندوؤں کا گھر اور وطن ہوں گے اسی طرح سکھوں کا بھی گھر اور وطن ہوں گے۔اور اگر یہ کہو کہ پنجابی سکھوں کا وطن کونسا ہو گا۔تو اس کا جواب یہ ہے کہ اول تو جب ہندو اور سکھ ایک قوم تسلیم کئے گئے تو پنجابی سکھ کے علیحدہ وطن کا سوال ہی نہیں اٹھ سکتا۔جب سکھ بھی ہندوستان کی وسیع ہند و جاتی کا حصہ ہے تو ظاہر ہے کہ جب ہندو جاتی کو وطن مل گیا تو لازماً سکھ کو بھی مل گیا اور اور اس کا علیحدہ مطالبہ سراسر باطل ہے۔دوسرے اگر ہندو قوم کے ساتھ ایک ہوتے ہوئے پنجابی سکھ کو علیحدہ وطن کی ضرورت ہے تو یو۔پی اور بہار اور مدراس وغیرہ کے مسلمانوں کو کیوں علیحدہ وطن کی ضرورت نہیں۔حالانکہ پنجاب کے ۳۷ لاکھ سکھ کے مقابل پر یو۔پی کا مسلمان ۸۴ لاکھ اور بہار کا مسلمان ۴۷ لاکھ ہے۔اگر مسلمان اپنے سوا کروڑ کمزور بھائیوں کو یو۔پی اور بہار میں ہندوؤں کے رحم پر چھوڑ سکتے ہیں تو پنجاب کے ۳۷ لاکھ سکھ جو بقول خود بہادر بھی ہیں اور صاحب مال وزر بھی ، پنجاب کے مسلمانوں کے ساتھ مل کر کیوں نہیں رہ سکتے۔دوسرا امکانی پہلو یہ ہے کہ سکھ ہندوؤں سے ایک الگ اور مستقل قوم ہیں اور علیحدہ مذہب اور علیحدہ تمدن رکھتے ہیں، جس کی علیحدہ حفاظت کی ضرورت ہے۔تو اس صورت