مضامین بشیر (جلد 2) — Page 877
ALL مضامین بشیر صابر درویشوں کے بے صبر رشتہ دار اس وقت قادیان میں تین سو سے اوپر درویش رہتے ہیں جنہوں نے مقدس مقامات کی آبادی اور حفاظت کے لئے اپنے آپ کو گویا وقف کر رکھا ہے ان میں سے اکثر ایسے اخلاص اور قربانی کا نمونہ دکھا رہے ہیں جنہیں دیکھ کر ان کے لئے درد دل سے دعا نکلتی ہے۔ان میں سے بعض کو اپنے رشتہ داروں کی جدائی کی وجہ سے تکلیف بھی ہے اور بعض کے خانگی معاملات میں بھی ایسی پیچیدگیاں ہیں جو ان کی واپسی کی متقاضی ہیں مگر پھر بھی وہ جماعت کی مجبوریوں کو دیکھتے ہوئے نہائت درجہ صبر اور استقلال کے ساتھ قادیان میں بیٹھے ہوئے ہیں۔اللہ تعالیٰ ان کی اس خدمت کو قبول فرمائے اور انہیں دین و دنیا کی بہترین نعمتوں سے نوازے۔آمین۔لیکن بعض درویشوں کے بعض پاکستانی رشتہ دار بعض اوقات بے صبری کا اظہار کرتے ہیں اور اس بات کا مطالبہ کرتے ہیں کہ ان کے رشتہ دار درویش کو قادیان سے واپس بلوا دیا جائے۔میں ان کی مجبوریوں کو بھی تسلیم کرتا ہوں لیکن صابر درویشوں کے ان بے صبر رشتہ داروں کو چند باتیں ضرور یاد رکھنی چاہئیں : ( اول ) ابھی تو قادیان کی ہجرت پر صرف اڑھائی سال کا عرصہ گزرا ہے حالانکہ اس کے مقابل پر کئی بیرونی مبلغین دس دس بارہ بارہ سال کی خدمت اور عزیزوں کی جدائی کے بعد پاکستان واپس آئے۔پس جب دین کی خدمت کرنے والے لوگ دس دس بارہ بارہ سال تک اپنے رشتہ داروں سے جدا رہ سکتے ہیں اور جدائی بھی ایسی کہ جو ہزاروں میل کے فاصلہ سے تعلق رکھتی ہے تو پھر کیا وجہ ہے کہ صرف چند میل کے فاصلہ کی جدائی دو چار سال کے عرصہ کے لئے بھی برداشت نہ کی جا سکے۔قادیان وا بگہ کے بارڈر سے صرف ۵۶ میل دور ہے اور ڈاک کا انتظام بھی ایسا ہے کہ دوسرے یا تیسرے دن خط ضرور پہنچ جاتا ہے اور اب تو بارڈر پر عزیزوں کی ملاقات کا راستہ بھی کھل گیا ہے تو ان حالات میں درویشوں کے رشتہ داروں کو چاہئے کہ صبر سے کام لیں اور بے چینی کا اظہار کر کے اپنے ثواب کو کم نہ کریں۔( دوم ) بعض درویشوں کے رشتہ دار لکھتے ہیں کہ اب جبکہ ہندوستان کے مختلف علاقوں سے بعض مزید احمدی قادیان پہنچ گئے ہیں تو ہمارے رشتہ دار کو واپس بلا دیا جائے۔اپنے دوستوں کو یا د رکھنا