مضامین بشیر (جلد 2) — Page 876
مضامین بشیر دار التبلیغ بھی نہیں دکھا سکتے جو انہوں نے تبلیغ اسلام اور اعلائے کلمۃ اللہ کے لئے غیر مسلم ملکوں میں قائم کیا ہولیکن اس کے مقابل پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی چھوٹی سی جماعت نے دنیا کے تقریباً ہر ملک میں تبلیغی مرکز قائم کر رکھے ہیں۔جہاں سینکڑوں مبلغ دن رات خدمت دین میں لگے رہتے ہیں۔پس اگر یہ بات سچی ہے اور یقینا کچی ہے کہ :- درخت اپنے پھل سے پہچانا جاتا ہے“ ,, تو میں سوال کرنے والے دوست سے کہتا ہوں کہ جسمانی مردوں کے زندہ ہونے کا خیال چھوڑ و کہ یہ خدا کی واضح سنت اور اٹل قانون کے خلاف ہے اور آؤ اور روحانی مردوں کی زندگی کا نظارہ دیکھو کہ خود حضرت مسیح موعود کے زندہ کئے ہوئے مردے تو الگ رہے ان کے سینکڑوں خادم بھی اس وقت دنیا کے ہر گوشے میں اسلام کے آب حیات کی شیشی ہاتھ میں لئے ہوئے مردہ روحوں کو زندہ کرتے پھرتے ہیں۔اگر چالیس کروڑ مسلمانوں کی طرف سے دنیا کے کسی ایک ملک میں ایک تبلیغی مشن کا بھی قائم نہ ہونا اور حضرت مسیح موعود کی چند لاکھ کی غریب جماعت کی طرف سے دنیا کے قریباً ہر ملک میں اسلامی تبلیغ کے بیشمار مشن قائم ہو جانا احمدیت کی سچائی اور احمدیت کے درخت کے پھل کی خوبی کی دلیل نہیں تو میں اس کے سوا کیا کہہ سکتا ہوں کہ یا تو پوچھنے والے کی آنکھ میں صداقت کو دیکھنے کا نور نہیں اور یا شاید بیان کرنے والے کی زبان میں ابھی تک قوت گویائی کا اتنا ز ور نہیں جو سچائی کو منوانے کے لئے ضروری ہے۔وما علينا الا البلاغ و لا حول ولا قوة الا بالله العظيم ( مطبوعه الفضل ۱۳ جون ۱۹۵۰ء)