مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 797 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 797

۷۹۷ مضامین بشیر بعض متفرق سوالوں کا جواب ( دعاؤں میں ناکامی پر مایوسی ، مردوں پر فاتحہ خوانی اور قل کی رسم وغیرہ) گذشتہ مضمون میں جہاد بالسیف کے مسئلہ کے متعلق ایک دوست کے سوال کا جواب دے چکا ہوں اب ایک بہن کے سوال کا جواب دیتا ہوں۔یہ بہن بھتی ہیں کہ ان کے لڑکے نے اپنی بیکاری دور کرنے کے لئے ایک امتحان دیا تھا مگر باوجود محنت کرنے اور دعائیں مانگنے کے وہ ناکام رہا ہے جس کی وجہ سے اس کے اندر مایوسی کی کیفیت پیدا ہورہی ہے بلکہ نعوذ باللہ خدا کے متعلق بھی شکوک اٹھ رہے ہیں کہ اتنی دعاؤں کے باوجود خدا نے میری نہیں سنی۔یہ بہن گواپنی ذات میں بہت نیک اور مخلص ہیں مگر اپنے بچے کی وجہ سے فکرمند ہیں اور چاہتی ہیں کہ دعاؤں کے اس پہلو پر کچھ روشنی ڈالی جائے تا کہ جماعت کے نوجوانوں کے لئے بصیرت اور سہارے کا موجب ہو۔سو اس کے متعلق یاد رکھنا چاہیئے کہ یہ ساری غلط فہمی در اصل دعاؤں کے حقیقی فلسفہ کے نہ سمجھنے اور شریعت اور قضاء وقدر کے قانون میں امتیاز نہ کرنے کا نتیجہ ہے ورنہ بات بہت صاف ہے اور میں اس کے متعلق اپنی کتاب ’ ہمارا خدا “ اور ”سیرت خاتم النبیین حصہ سوم میں کسی قدر تفصیل کے ساتھ لکھ چکا ہوں۔مختصر طور پر یہ جاننا کافی ہے ( کیونکہ میں اس وقت بوجہ علالت حوالے درج کرنے سے معذور ہوں ) کہ دعاؤں کے متعلق یہ خیال کرنا کہ ہر انسان کی ہر دعا لازماً منظور ہونی چاہیئے اور پھر لا زما وہ اسی صورت میں منظور ہونی چاہیئے جس صورت میں کہ وہ چاہتا ہے ایک بالکل باطل نظریہ ہے جس کے قبول کرنے سے سارا نظامِ عالم درہم برہم ہونے لگتا ہے کیونکہ اس نظریہ کے قبول کرنے سے یہ لازم آتا ہے کہ خدا دنیا کا آقا اور مالک نہیں بلکہ نعوذ باللہ انسانوں کا غلام ہے اور اس بات کے لئے مجبور ہے کہ ہر بات میں لازماً ان کی خواہش کے مطابق چلے اور ظاہر ہے کہ جو ہستی ہر بات میں مجبور ہو اور کسی بات میں ذرہ بھر ادھر اُدھر نہ ہو سکے وہ غلام ہوتی ہے نہ کہ آقا۔اسی لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرمایا کرتے تھے کہ دعاؤں کے معاملہ میں بندوں کے ساتھ خدا کا تعلق دوستانہ رنگ کا ہوتا ہے کہ کبھی وہ ان کی بات مانتا ہے اور کبھی اپنی بات منواتا ہے اور درحقیقت یہی دعاؤں کے فلسفہ کا مرکزی نقطہ ہے۔جس کے بغیر نہ تو خدا کی خدائی باقی رہتی ہے اور نہ بندے کی بندگی۔ہاں ہاں غور کرو