مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 780 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 780

مضامین بشیر ۷۸۰ بابا اللہ دتا صاحب درویش کا انتقال بابا اللہ دتا صاحب متوطن دوالمیال حال درویش قادیان کی تشویشناک علالت کی اطلاع الفضل میں چھپ چکی ہے اس کے بعد انہیں افاقہ ہو گیا تھا۔چنانچہ اپنے کل کے نوٹ میں میں نے ان کے افاقے کا ذکر بھی کیا تھا۔لیکن اس کے بعد اچانک قادیان سے بذریعہ ٹیلی فون اطلاع ملی ہے کہ بابا اللہ دتا صاحب موصوف کل بروز جمعہ بوقت پانچ بجے شام فوت ہو گئے ہیں۔اناللہ وانا اليه راجعون وہ دماغی ملیریا کے نتیجہ میں کافی عرصہ بے ہوش بھی رہے لیکن اس کے بعد طبیعت کسی قدرسنبھل گئی۔اور بے ہوشی کے آثار بھی جاتے رہے۔مگر معلوم ہوتا ہے کہ یہ موت سے پہلے کا سنبھالا تھا۔چنانچہ وہ مورخہ، ار فروری ۱۹۵۰ء کی شام کو وفات پا کر اپنے آسمانی آقا کے حضور پہنچ گئے۔قادیان میں یہ پانچویں درویش کی وفات ہے کیونکہ اس سے قبل حافظ نور الہی صاحب اور بابا شیر محمد صاحب اور میاں سلطان احمد صاحب اور میاں مجید احمد صاحب ڈرائیور فوت ہو چکے ہیں۔اللہ تعالیٰ ان سب مرحوم دوستوں کی روحوں کو اپنے خاص فضل و رحمت کے سایہ میں جگہ دے۔اور ان کے پسماندگان کا حافظ و ناصر ہو۔آمین قادیان کے درویش اس وقت ایسے حالات میں سے گزر رہے ہیں کہ میں خدا کے فضل سے یقین رکھتا ہوں کہ ان میں سے جو دوست اخلاص اور استقلال اور قربانی کے ساتھ اپنے عہد کو آخر تک نبھائیں گے وہ انشاء اللہ خدا سے خاص اجر پائیں گے۔اور ان کے وہ رشتہ دار بھی جو اس قربانی میں ان کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے ان کے معین و مددگار بنیں گے وہ بھی یقیناً ثواب سے محروم نہیں رہیں گے۔میں بابا اللہ دتا صاحب مرحوم کی وفات پر احباب قادیان اور احباب دوالمیال اور بابا صاحب مرحوم کے رشتہ داروں کے ساتھ تمام جماعت کی طرف سے دلی ہمدردی کا اظہار کرتا ہوں۔( مطبوعه الفضل ۱۲ فروری۱۹۵۰ء)