مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 691 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 691

۶۹۱ مضامین بشیر رسالہ مقامات النساء فی احادیث سید الانبیاء کا دیباچہ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی توفیق سے تعطیلات موسم گرما میں عاجز نے آنحضرت ﷺ کی احادیث کریمہ میں سے ایسی سو احادیث کا مجموعہ ترجمہ و تشریح کے ساتھ مرتب کیا جن میں عورتوں کا مقام بلحاظ ماں ، بہن ، بیوی، بیٹی ، بہو اور ایک عام خاتون کے مذکور ہے ، میں نے یہ مجموعہ حضرت صاحبزادہ میرزا بشیر احمد صاحب ایم۔اے کی خدمت میں بغرض اصلاح و مشورہ پیش کیا۔آپ نے در دنقرس اور بے حد مصروفیت کے باوجود اس مجموعہ پر گہری نظر ثانی فرما کر موقع بموقع اصلاح بھی فرمائی ہے۔اور از راہ شفقت اس رسالہ کا دیباچہ بھی تحریر فرمایا جو ذیل میں شائع کیا جاتا ہے۔یہ رسالہ زیر طبع ہے۔جیسا کہ حضرت صاحبزادہ صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔انشاء اللہ اسے کتابت کاغذ اور طباعت کے لحاظ سے بھی دیدہ زیب بنایا جائے گا میں تمام جماعتوں اور احباب سے ، بالخصوص لجنہ ہائے اماءاللہ سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ ابھی سے اس رسالہ کی مطلوبہ تعداد سے مطلع فرمائیں۔( خاکسارا بوالعطاء جالندھری۔احمد نگر جھنگ) مجھے خوشی ہوئی ہے کہ محترمی مولوی ابوالعطاء صاحب فاضل سابق مبلغ ملک شام و فلسطین حال پرنسپل جامعہ احمدیہ نے مجھے اپنی اس جدید تالیف ” مقامات النساء کا مسودہ دیکھنے اور حسب ضرورت مشورہ دینے کا موقع عطا کیا۔اسلام میں عورت کا مقام ایک بلند مقام ہے کیونکہ یہی وہ قابل قدر وجود ہے جس کی گود میں قوم کے نو نہال پرورش پاتے اور قومی قیادت کی آئندہ باگ ڈور سنبھالنے کے قابل بنتے ہیں۔پس خواہ اس کے بعض افراد اپنے مقام سے گر جائیں۔عورت اپنی ذات میں ضرور ایک نهایت درجه قابل قدر اور قابل عزت وجود ہے۔اور مردوں کی یہ کوشش ہونی چاہئے کہ وہ اس کی تقدیس کو قائم رکھیں ورنہ یہ وہ کلہاڑا ہو گا جو خود ان کے پاؤں پر لگ کر انہیں ہمیشہ کے لئے اپاہج کر دے گا۔اسلام سے قبل عورت ایک پست وجود سمجھی جاتی تھی جس کے نہ تو کوئی حقوق محفوظ تھے اور نہ ہی کوئی ذمہ داریاں معین کی گئی تھیں۔اسلام نے اس وجود کو مٹی سے اٹھا کر صرف ایک معین شکل ہی نہیں دی بلکہ ایک دلکش اور قابل قدر وجود بنا دیا اس نے مرد کا حق معین کیا تا کہ وہ عورت کے حقوق پر ڈا کہ نہ ڈال سکے اور دوسری طرف اس نے عورت کے حقوق کی بھی داغ بیل قائم کی تاکہ وہ اپنے حقوق کی حفاظت کر سکے اور اپنے دائرہ عمل سے باہر دھکیلے جانے پر مقابلہ کے لئے تیار رہے۔یہ تمیز اس لئے