مضامین بشیر (جلد 2) — Page 58
مضامین بشیر ۵۸ میں بے چینی اور بخار اور سوزش اضطراب میں مبتلا ہو جاتا ہے۔“ اخوت اسلامی کی یہ لطیف تشبیہ جو غالباً دنیا بھر کی لطیف ترین تشبیہوں میں سے ہے ، کسی تشریح کی محتاج نہیں۔اس تشبیہہ میں اسلامی سوسائٹی کو جسم انسانی کے مشابہ قرار دے کر اس سوسائٹی کے افراد کو جسم انسانی کے مختلف اعضاء سے تشبیہہ دی گئی ہے اور یہ تشبیہہ کتنی لطیف اور کتنی سچی اور کتنی گہری اور فطرت انسانی کی کتنی آئینہ دار ہے؟ اس سوال کا جواب کسی حاذق طبیب یا کسی ماہر نفسیات سے پوچھوا ور یا پھر مجھ سے سنو۔جو اس فن کی اصطلاحوں سے نا آشنا ہونے کے با وجو داس وقت اس فطری نظارہ کو خود اپنے نفس میں مشاہدہ کر رہا ہے۔جب میں نے یہ مضمون لکھنا شروع کیا تو بغیر کسی سابقہ انتباہ کے مجھے نقرس کے حملہ نے اچانک آدبوچا۔اور بائیں پاؤں کے ٹخنہ میں اس شدت کا درد اٹھا کہ چند منٹوں کے اندر اندر چلنا پھرنا تو در کنار بستر کے اندر پاؤں ہلانا بھی مشکل ہو گیا۔میرے اس مضمون کے نوٹ میرے سامنے تھے اور میری آنکھیں ان الفاظ کو دیکھ رہی تھیں کہ إِذَا اشْتَكَى عُضُوا ( یعنی جب جسم انسانی کا کوئی عضو بیمار ہوتا ہے ) تو۔۔۔۔میں نے دل میں کہا کہ شاید نیز نگئی قدرت اس فلسفہ کا پہلا سبق خود مجھ ہی کو دینا چاہتی ہے اور اب مجھے کچھ عرصہ کے لئے سهر وحشی (یعنی بے چینی اور بخار ) کے واسطے تیار ہو جانا چاہیئے۔چنانچہ یہی ہوا کہ درد تو صرف بائیں پاؤں کے ٹخنہ میں تھا اور ماؤف مقام غالبا ایک انچ قطر سے زیادہ نہیں ہو گا مگر دیکھتے ہی دیکھتے جسم یوں تپنے لگا کہ جیسے قدرت کی کسی غیر مرئی بھٹی نے سارے جسم میں جلد کے نیچے دہکتے ہوئے کوئلوں کی تہہ بچھا دی ہے۔اور اس کے ساتھ بے چینی اور اضطراب کا وہ عالم تھا کہ الامان۔اس وقت میں حقیقہ اس سوچ میں پڑ گیا کہ اس تکلیف دہ بیماری سے شفا پانے کی دعا پہلے کروں یا کہ اس تازہ بتازہ فطری سبق پر خدا کا شکر یہ پہلے ادا کروں؟ بہر حال خواہ میرا یہ مضمون مکمل ہو سکے یا نہ ہو سکے یا خواہ مجھے اس کی تشریح و توضیح کی توفیق ملے یا کہ صرف اشاروں اشاروں میں ہی یہ مضمون ختم ہو جائے۔یہ ایک زندہ حقیقت ہے کہ جس طرح بسا اوقات سنیما کے پردہ پر ایک دور دراز کے نظارہ کو مصوری کی فسوں ساز تاروں سے لپیٹ کر دیکھنے والوں کی نظروں کے قریب لے آتے ہیں اسی طرح میری اس بیماری کے غیر متوقع حملہ نے اخوتِ اسلامی کی وہ عدیم المثال تصویر جو اوپر کی حدیث میں بیان ہوئی ہے، میری نظروں کے اس قدر قریب کر دی کہ میں گویا سب کچھ بھول کر اسی میں کھویا گیا۔واقعی کیسی کچی اور کیسی پیاری اور کیسی دلکش مثال ہے جو اس حدیث میں بیان کی گئی ہے۔یہ گویا اس قرآنی آیت کی ایک مجسم تفسیر ہے۔کہ