مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 666 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 666

مضامین بشیر ۶۶۶ صرف واجب العمل ہی نہیں ہوگا بلکہ درست اور صحیح بھی ہوگا مگر حکم لفظ کے متعلق ہمیں اپنی طرف سے تشریح پیش کرنے کی ضرورت نہیں خود حضرت مسیح موعود کی زبان سے سنئے فرماتے ہیں:۔جو شخص مجھے دل سے قبول کرتا ہے وہ دل سے اطاعت بھی کرتا ہے اور ہر ایک حال میں مجھے حکم ٹھہراتا ہے اور ہر ایک تنازعہ کا مجھ سے فیصلہ چاہتا ہے مگر جو شخص مجھے دل سے قبول نہیں کرتا اس میں تم نخوت اور خود پسندی اور خود اختیاری پاؤ گے۔پس جانو کہ وہ مجھ میں سے نہیں ہے کیونکہ وہ میری باتوں کو جو مجھے خدا سے ملی ہیں عزت سے نہیں دیکھتا۔اس لئے آسمان پر اس کی عزت نہیں۔“ کیا ان الفاظ سے زیادہ واضح اور زیادہ زور والے الفاظ ممکن ہیں؟ پس ان حالات میں جناب مولوی محمد علی صاحب کا یہ فرمانا اور اس پر فخر کرنا کہ ہم تو حضرت مسیح موعود سے بھی اختلاف کر لیتے ہیں۔اور یہ کہ مسیح ناصری کے بے باپ ہونے یا نہ ہونے کے متعلق ہمارا عقیدہ حضرت مسیح موعود کے عقیدہ کے خلاف ہے، ایک ایسی جرات ہے جس کا ارتکاب غالباً آج تک کسی تابع نے اپنے مامور متبوع کے متعلق نہیں کیا ہوگا۔اے کاش جناب مولوی محمد علی صاحب اپنی آزاد خیالی کے جوش میں یہ الفاظ نہ فرماتے جن کے متعلق میں ڈرتا ہوں کہ قیامت کے دن انہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سامنے آنکھیں اونچی کرنے کے قابل نہیں رہنے دیں گے۔جناب مولوی صاحب کو یاد رکھنا چاہئے کہ جب وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ذکر کرتے ہیں تو کسی عالم یا مجتہد کا ذکر نہیں کرتے بلکہ خدا کے مسیح اور مہدی اور مصلح و مامور کا ذکر کرتے ہیں جسے موجودہ زمانہ کے فاسد خیالات کے لئے حکم و عدل بنا کر بھیجا گیا ہے پس خواہ ہماری درمیانی نبوت وغیرہ کے مسائل میں کتنا ہی اختلاف کیوں نہ ہو ، کم از کم یہ بات تو فریقین کے نزدیک مسلم ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام حکم و عدل تھے۔ہاں وہی حکم و عدل جسے آنحضرت علی نے حکم و عدل کے الفاظ سے یاد کیا اور پھر وہی حکم و عدل جسے خود خدائے ذوالعرش نے حکم کے نام سے پکارا۔پس مکرم مولوی صاحب خدا کے لئے سنبھلئے۔خدا کے لئے سنبھلئے۔آپ کے ساتھ خواہ کتنی ہی قلیل جماعت ہے بہر حال آپ کو ایک پارٹی کی قیادت حاصل ہے اور آپ کی لغزش ان لوگوں کی لغزش کا موجب ہو سکتی ہے جو گو ہمیشہ تو نہیں مگر عموماً آپ کی ہدایت کی طرف دیکھتے ہیں اور اس سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں اور پھر آپ اب بظاہرا اپنی آخری عمر کو بھی پہنچے ہوئے ہیں جبکہ دنیا میں آزاد خیالی کی واہ واہ کی نسبت آپ کو آخرت کی زیادہ فکر ہونی چاہئے۔خدا جانتا ہے کہ میں نے یہ الفاظ طعن کے رنگ میں نہیں لکھے بلکہ آپکی کچی ہمدردی میں نیک نیتی کے خیال سے لکھے ہیں۔خدا کرے کہ میری یہ دور کی صدا آپ کے دل کی