مضامین بشیر (جلد 2) — Page 617
۶۱۷ مضامین بشیر کیا موجودہ کمزوری کے بعد پھر بھی طاقت کا زمانہ آئے گا ؟ کیا یہ خوف کے دن کبھی پھر بھی امن سے بدلیں گے؟ ان سوالوں کا جواب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہاموں میں ملے گا گزشتہ فسادات کے نتیجہ میں جو بھاری زلزلہ ملک میں آیا ہے اور اس کے نتیجہ میں جماعت احمد یہ کو بھی (سوائے ایک نہایت قلیل اور محصور حصہ کے ) اپنے مرکز قادیان سے نکلنا پڑا ہے۔اس کی وجہ سے غیر از جماعت لوگ تو حسب عادت اعتراض اور طعن کا رنگ اختیار کر ہی رہے ہیں اور ان کا یہ رویہ قدیم الہی سنت کے مطابق ہے جو ہمیشہ سے خدائی جماعتوں کے ساتھ چلی آئی ہے۔لیکن خود جماعت کا ایک کمزور حصہ بھی اس قسم کے شکوک میں مبتلا ہو رہا ہے کہ کیا موجودہ قیامت خیز حالات کے بعد پھر بھی کبھی قادیان کی بحالی ہوگی اور کیا جماعت کی موجودہ کمزوری اور انتشار کی حالت کے بعد پھر بھی کبھی طاقت کا زمانہ آئے گا اور کیا موجودہ خوف کے دن پھر بھی کبھی امن کے ایام کو جگہ دیں گے؟ یہ اور اس قسم کے دوسرے سوالات جماعت کے ایک قلیل حصہ کو جو خدائی سنت کی پوری واقفیت نہیں رکھتا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہاموں کے مطالعہ کرنے کا بھی عادی نہیں ، وقتاً فوقتاً پریشان کرتے رہتے ہیں اور بعض اوقات متعدی امراض کی طرح مضبوط حصہ کی پریشانی کا موجب بھی بن جاتے ہیں۔اس لئے نہیں کہ اس مضبوط حصہ کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہاموں اور خدائی بشارتوں پر یقین نہیں بلکہ اس لئے کہ مطالعہ کی کمی کی وجہ سے یا غور کی عادت نہ ہونے کی بناء پر انہیں ان الہا موں کا علم نہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اس بارہ میں ہو چکے ہیں اور جن پر سچے مومنوں کی جماعت کامل یقین رکھتی اور انہیں خدائے علیم وقد سر کا اٹل وعدہ سمجھتی ہے۔ایسے لوگوں کے لئے ذیل میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بعض الہامات مختصر ترجمہ اور تشریح کے ساتھ پیش کئے جاتے ہیں اور میں امید کرتا ہوں کہ ہمارے دوست نہ صرف ان الہاموں کا مطالعہ کریں گے بلکہ غور وخوض کے ساتھ مزید بشارتوں کا علم حاصل کرنے کی بھی کوشش کریں گے